صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 106 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 106

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۱۰۶ ۶۵ - كتاب التفسير ق هَمَّامٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ہمیں خبر دی۔ معمر نے ہمام بن منبہ ) سے ، ہمام قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت تَحَاجَّتِ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ فَقَالَتِ النَّارُ کی ۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أُوثِرْتُ بِالْمُتَكَبِّرِينَ وَالْمُتَجَبِّرِينَ جنت اور آگ کا آپس میں جھگڑا ہوا۔ آگ کہنے لگی: میرے لئے وہی لوگ منتخب کئے گئے ہیں جو وَقَالَتِ الْجَنَّةُ مَا لِي لَا يَدْخُلُنِي إِلَّا متکبر اور جابر ہیں اور جنت نے کہا: کیا وجہ ہے کہ ضُعَفَاءُ النَّاسِ وَسَقَطُهُمْ قَالَ اللَّهُ مجھ میں سوائے کمزور ، ادنی اور حقیر لوگوں کے اور تَبَارَكَ وَتَعَالَى لِلْجَنَّةِ أَنْتِ رَحْمَتِي کوئی داخل نہیں ہوتا؟ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جنت أَرْحَمُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ مِنْ عِبَادِي وَقَالَ سے کہا: تو میری رحمت ہے، تیرے ذریعہ اپنے لِلنَّارِ إِنَّمَا أَنْتِ عَذَابٌ أُعَذِّبُ بِكِ بندوں میں سے جس پر چاہتا ہوں رحم کرتا ہوں مَنْ أَشَاءُ مِنْ عِبَادِي وَلِكُلِّ وَاحِدَةٍ اور آگ سے کہا: تم تو صرف ایک سزا ہو۔ اپنے مِنْهُمَا مِلْؤُهَا فَأَمَّا النَّارُ فَلَا تَمْتَلِئُ بندوں میں سے جس کو چاہتا ہوں تیرے ذریعہ حَتَّى يَضَعَ رِجْلَهُ فَتَقُولُ قَدْ قَط سزا دیتا ہوں۔ اور ان میں سے ہر ایک کو اتنے قَدْ فَهُنَالِكَ تَمْتَلِئُ وَيُزْوَى بَعْضُهَا لیں گے جس سے وہ بھر جائے گا۔ آگ جو ہو گی إِلَى بَعْضٍ وَلَا يَظْلِمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ تو وہ بھرنے کی نہیں۔ یہاں تک کہ وہ اپنا پاؤں رکھے گا تو وہ کہے گی: بس بس بس۔ تب جاکر وہ مِنْ خَلْقِهِ أَحَدًا وَأَمَّا الْجَنَّةُ فَإِنَّ اللَّهَ بھر جائے گی اور اس کا ایک حصہ دوسرے میں عَزَّ وَجَلَّ يُنْشِئُ لَهَا خَلْقًا۔ سمٹ جائے گا۔ اور اللہ عزوجل اپنی مخلوق میں سے کسی پر ظلم کرنے کا نہیں۔ ۔ اور جنت جو ہے تو اللہ عز وجل اس کے لئے اور خلقت پیدا کرے گا۔ أطرافة: ٤٨٤٩، ٧٤٤٩- تشريح : وَ تَقُولُ هَلْ مِن تزيد : اور وہ اپنی جنم) کہے گی کہ کیا کچھ اور بھی ہے ؟ حضرت خلیفة المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ ایک آریہ کے اعتراض ”خدا اپنے دونوں پاؤں دوزخ میں ڈال دے گا اور جہنم کو سیر کر دے گا“ کے جواب میں فرماتے ہیں: تمہارے یہاں پر میشور کا نام سرب بیا پک ہے تو کیا وہ نرگ میں نہیں ہے۔ قرآن کریم میں صرف اس قدر ہے کہ يَوْمَ نَقُولُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلَاتِ وَ تَقُولُ هَلْ مِنْ مَزِيدٍ