صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 105
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۱۰۵ ۶۵ - کتاب التفسیر / ق خیر اور ایک داعی شر تا انسان اس ابتلا میں پڑ کر مستحق ثواب یا عقاب کا ٹھہر سکے۔“ آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ حاشیه صفحه ۸۱ تا ۸۳) بَاب ۱ : وَتَقُولُ هَلْ مِنْ قَرِيدٍ (ق: ۳۱) اور وہ ( یعنی جہنم ) کہے گی کہ کیا کچھ اور بھی ہے؟ ٤٨٤٨ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي :۴۸۴۸ : عبد اللہ بن ابی الاسود نے ہم سے بیان کیا الْأَسْوَدِ حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ که حرمی بن عمارہ نے ہمیں بتایا۔شعبہ نے ہم حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ سے بیان کیا کہ انہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے، حضرت انس نے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُلْقَى فِي النَّارِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔آپ نے فرمایا: آگ میں ڈالے جائیں گے اور وہ کہے تھی کہ وَتَقُولُ هَلْ مِنْ مَزِيدٍ (ق: ۳۱) حَتَّى يَضَعَ قَدَمَهُ فَتَقُولُ قَط قَطْ۔کیا کچھ اور بھی ہے ؟ یہاں تک کہ وہ اپنا قدم اس میں رکھے گا۔پھر وہ کہے گی بس بس۔أطرافه: ٦٦٦١، ٧٣٨٤- ٤٨٤٩ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى :۴۸۴۹ محمد بن موسیٰ قطان نے ہمیں بتایا کہ ہم الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو سُفْيَانَ الْحِمْيَرِيُّ سے ابوسفیان حمیری سعید بن يحي بن مہدی نے سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مَهْدِي حَدَّثَنَا بیان کیا کہ ہمیں عوف (اعرابی) نے بتایا۔عوف نے عَوْفٌ عَنْ مُّحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَفَعَهُ محمد بن سیرین) سے، انہوں نے حضرت ابو ہریرۃ وَأَكْثَرُ مَا كَانَ يُوقِفُهُ أَبُو سُفْيَانَ يُقَالُ سے مرفوعاً روایت کرتے ہوئے بتایا۔اور ابوسفیان لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلَاتِ وَ تَقُولُ هَلْ مِنْ اس حدیث کو اکثر موقوف بیان کرتے تھے کہ جہنم سے پوچھا جائے گا: کیا تو بھر گئی؟ اور وہ کہے مزيد ( 3 : ۳۱) فَيَضَعُ الرَّبُّ تَبَارَكَ گ کہ کیا کچھ اور بھی ہے ؟ آخر رب تبارک و تعالیٰ وَتَعَالَى قَدَمَهُ عَلَيْهَا فَتَقُولُ قَط قَط۔اپنا قدم اس پر رکھے گا اور وہ کہے گی بس بس۔أطرافه: ٤٨٥٠، ٧٤٤٩ - ٤٨٥٠: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ :۴۸۵۰: عبد اللہ بن محمد (مسندی) نے ہم سے حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ بیان کیا کہ عبد الرزاق نے ہمیں بتایا۔معمر نے