صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 104
حیح البخاری جلد ۱۲ ۱۰۴ ۶۵ - کتاب التفسیر / ق امام بخاری نے مَا تَنْقُصُ الْأَرْضُ سے مِن عِظَامِهم مراد لیا ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اس آیت کریمہ کی وضاحت میں فرماتے ہیں: " متقابل الفاظ میں سے ایک بیان کیا جائے تو عربی قاعدہ کے مطابق دوسرا بھی حسب ضرورت محذوف سمجھ لیا جاتا ہے۔اس قاعدہ کے مطابق ”کم کرتی ہے“ کے مقابل میں ہم نے زیادہ کرتی ہے “ کے الفاظ محذوف نکالے ہیں۔اس آیت میں کم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ مرنے کے بعد مٹی ان کو کھا جاتی ہے اور زیادہ کرنے سے یہ مراد ہے کہ مٹی جو غذا نکالتی ہے اس کو کھا کھا کر انسانی جسم بڑھتا ہے۔“ ( تفسیر صغیر، سورۃ ق، حاشیه آیت نمبر ۵) قَالَ قَرِيبةُ: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: قَالَ قَدِيْنُهُ رَبَّنَا مَا اطْغَيْتُهُ وَلَكِنْ كَانَ فِي ضَلالٍ بَعِيد (ق: ۲۸) اس کا ساتھی کہے گا: اے ہمارے رب ! میں نے اس سے سرکشی نہیں کروائی بلکہ وہ خود ہی ایک پرلے درجہ کی گمراہی میں مبتلا تھا۔(ترجمہ تفسیر صغیر) امام بخاری نے قرینہ سے یہاں شیطان مراد لیا ہے جو اس کے ساتھ لگا دیا گیا ہے۔حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایک روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہر ایک کے ساتھ ایک قرین (رفیق) جن کی نوع میں سے اور ایک قرین فرشتوں میں سے مؤکل ہے۔صحابہ نے عرض کیا کہ کیا آپ کے ساتھ بھی؟ فرمایا: ہاں، میرے ساتھ بھی، مگر اللہ نے مجھے اس پر غالب کر دیا ہے اور وہ میرے قابو میں ہے۔بجز نیکی کے مجھے اور کوئی بات نہیں کہتا۔(مسند احمد بن حنبل، مسند عبد اللہ بن مسعود، جزء اول صفحه ۴۰۱) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: " یہ دونوں داعی صرف خیر یا شر کی طرف بلاتے رہتے ہیں مگر کسی بات پر جبر نہیں کرتے جیسا کہ اس آیت کریمہ میں اسی امر کی طرف اشارہ ہے فَالهَمَهَا فُجُورَهَا وتقولها - یعنی خدا بدی کا بھی الہام کرتا ہے اور نیکی کا بھی۔بدی کے الہام کا ذریعہ شیطان ہے جو شرارتوں کے خیالات دلوں میں ڈالتا ہے اور نیکی کے الہام کا ذریعہ روح القدس ہے جو پاک خیالات دل میں ڈالتا ہے۔قرآن کریم کی یہ تعلیم نہیں ہے کہ شیطان گمراہ کرنے کیلئے جبر کر سکتا ہے اور نہ یہ تعلیم ہے کہ صرف بدی کی طرف بلانے کیلئے شیطان کو مقرر کر رکھا ہے بلکہ یہ تعلیم ہے کہ آزمائش اور امتحان کی غرض سے لمہ ملک اور لمہ ابلیس برابر طور پر انسان کو دیئے گئے ہیں یعنی ایک داعی