صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 103
حیح البخاری جلد ۱۲ ۱۰۳ ۶۵ - کتاب التفسیر / ق مَا دَامَ فِي أَكْمَامِهِ وَمَعْنَاهُ مَنْضُودٌ جب تک کہ وہ غلاف میں رہے، اور اس کے معنی بَعْضُهُ عَلَى بَعْضٍ فَإِذَا خَرَجَ مِنْ ہیں ایک دوسرے پر تہ بہ تہ کیا ہوا۔اور جب اپنے غلاف سے نکل آئے تو نضید نہیں ہوتا۔أَدْبَارِ أَكْمَامِهِ فَلَيْسَ بِنَضِيدٍ فِي أَدْبَارِ النُّجُوْمِ وَأَدْبَارِ السُّجُودِ، كَانَ النُّجُومِ اور أَدْبَارِ السُّجُودِ جو ( قرآن مجید میں آیا ) عَاصِمٌ يَفْتَحُ الَّتِي فِي وَيَكْسِرُ ہے تو عاصم اس کو سورۃ ق میں الف کی فتح کے ساتھ (یعنی ادبار السُّجُودِ) پڑھتے تھے۔اور وہ الَّتِي فِي الطُّورِ، وَيُكْسَرَانِ جَمِيعًا وو جو سورۃ طور میں ہے (یعنی ادبار النُّجُومِ ) اس کی وَيُنصَبَانِ۔وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَوم الف کے نیچے زیر دیا کرتے تھے۔اور دونوں کو الْخُرُوج ( 3 :٤٣) يَوْمَ يَخْرُجُونَ إِلَى کسرہ سے بھی پڑھا جاتا ہے اور نصب سے بھی۔الْبَعْثِ مِنَ الْقُبُورِ۔اور حضرت ابن عباس نے کہا: يَوْمُ الْخُرُوج سے وہ دن مراد ہے جس دن وہ دوبارہ جی اٹھنے کے لیے قبروں سے نکلیں گے۔تشریح : حضرت خلیفة المسح الرابع رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ کی قدرت کا انکار کرنے والوں کا یہ بیان مذکور ہے کہ اللہ تعالیٰ میں یہ قدرت کہاں سے آگئی کہ ہمیں مر کر مٹی ہو جانے کے بعد ایک دفعہ پھر قیامت کے دن اکٹھا کرے۔ان کے نزدیک یہ ایک بہت دُور کی بات ہے یعنی بعید از عقل ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہمیں معلوم ہے کہ زمین اُن میں سے کیا کچھ کم کرتی چلی جارہی ہے لیکن اس کے باوجود ہم یہ قدرت رکھتے ہیں کہ ان کے منتشر ذرات کو اکٹھا کر دیں۔ان کی توجہ آسمان کی وسعتوں کی طرف پھیری گئی ہے کہ اتنی عظیم الشان کائنات میں کوئی ایک نقص بھی وہ نہیں دکھا سکتے ، پھر اس کے پیدا کرنے والے کی قدرتوں کا وہ کیسے انکار کر سکتے ہیں۔“ ترجمہ قرآن کریم حضرت خلیفۃ المسیح الرابع، تعارف سورۃ ق، صفحہ ۹۳۶) مَا تَنْقُصُ الْأَرْضُ مِنْهُم : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنْقُصُ الأَرْضُ مِنْهُمْ وَعِنْدَنَا كِتَبُ حَفِيظٌ (ق:۵) یعنی ہم کو خوب معلوم ہے وہ بھی جو زمین ان میں سے کم کرتی ہے (اور وہ بھی جو زیادہ کرتی ہے) اور ہمارے پاس ایسی کتاب ہے جو ہر چیز کو محفوظ رکھتی ہے۔(ترجمہ تفسیر صغیر)