صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 102 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 102

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۱۰۲ ۶۵ - كتاب التفسير ق ٥٠- سورة ق رجع بعيد (ق: ٤) رَدَّ فُرُوجٍ (ق: ٧) رَجْعَ بَعِید سے یہ مراد ہے کہ یہ لوٹایا جانا بہت فُتُوقٍ وَاحِدُهَا فَرْجٌ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ دور کی بات ہے۔ فُرُوج کے معنی ہیں سوراخ ۔ (ق: ۱۷) وَرِيدَاهُ فِي حَلْقِهِ وَالْحَبْلُ اس کی مفرد فریج ہے۔ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ سے مراد گلے کی دور گئیں ہیں۔ اور الحبل کندھے کی حَبْلُ الْعَاتِقِ۔ رگ کو بھی کہتے ہیں۔ وَقَالَ مُجَاهِدٌ مَا تَنْقُصُ الْأَرْضُ (ق: ٥) اور مجاہد نے کہا: مَا تَنْقُصُ الْأَرْضُ سے مراد ان مِنْ عِظَامِهِمْ تَبْصِرَةً (٩:٤) بَصِيرَةً کی ہڈیاں ہیں جو زمین آہستہ آہستہ کھا رہی ہے۔ حَبَّ الْحَمِيدِ (ق: ١٠) الْحِنْطَةُ بُسِقَت تَبْصِرَةً کے معنی ہیں دیکھنا۔ حَبَّ الْحَصِيدِ کے (ق: ١١) الطَّوَالُ۔ أَفَعَبِيْنَا (ق: ١٦) معنی ہیں گیہوں۔ بسقت یعنی لیے لیے۔ اَفَعَينا کے معنی ہیں کیا اس نے ہمیں تھکا دیا ہے۔ وقال أَفَأَعْيَا عَلَيْنَا ۔ وَقَالَ قَرِينُهُ (ق: ۲۸) قرینہ (میں قَرِین) سے مراد شیطان ہے جو اس الشَّيْطَانُ الَّذِي قُيِّضَ لَهُ۔ فَنَقَبُوا کے ساتھ لگا دیا گیا ہے۔ فنقبوا کے معنی ہیں (شہروں (ق:۳۷) ضَرَبُوا أَوْ الْقَى السَّمْعَ میں) پھرے۔ او القى الشمع سے یہ مراد ہے کہ (ق: ٣٨) لَا يُحَدِّثُ نَفْسَهُ بِغَيْرِهِ۔ (غور سے سنے) دل میں کسی اور کا خیال نہ گزرے۔ حِينَ أَنْشَأَكُمْ وَأَنْشَأَ خَلْقَكُمْ۔ حِينَ أَنْهَاكُمْ یعنی جب تمہیں پیدا کیا۔ وَأَنْهَا خَلْقَكُمْ اور تمہاری پیدائش کو شروع کیا۔ رَقِيبٌ عَتِيدٌ (ق: ۱۹) رَصَدْ۔ سَابِقٌ وَ رَقِيبٌ عَتِيدٌ یعنی ایک نگہبان ہے جو ہر وقت شَهِيدٌ (ق: ۲۲) الْمَلَكَانِ كَاتِبٌ چستی سے اپنے کام پر موجود ہے۔ سَابِقٌ وَ شَهِيدٌ وَشَهِيدٌ، شَهِيدٌ شَاهِدٌ بِالْغَيْبِ سے مراد دو فرشتے ہیں۔ ایک لکھنے والا اور دوسرا گواہ۔ شہید کے معنی ہیں وہ جو دل کی توجہ سے لُغُوب (ق: ٣٩) النَّصَبُ ۔ دیکھ رہا ہو۔ لغوب کے معنی ہیں تھکان۔ وَقَالَ غَيْرُهُ نَضِيدٌ (۱۱:۵) الْكُفْرَّی اور مجاہد کے سوا اوروں نے کہا: نضید یعنی گا بھا فتح الباری مطبوعہ انصاریہ میں اس جگہ لفظ بالقلب ہے ( فتح الباری جزء ۸ حاشیہ صفحہ ۲ جزء ۸ حاشیہ صفحہ ۷۵۴) ترجمہ اس کے مطالبہ مطابق ہے۔