صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 102
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۱۰۲ ٥٠- سورة ق ۶۵ - کتاب التفسیر / ق رجع بعيد ( 3 : ٤) رَدَّ فُرُوج (٧:3) رَجْعُ بعید سے یہ مراد ہے کہ یہ لوٹایا جانا بہت فُتُوقِ وَاحِدُهَا فَرْجُ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ دور کی بات ہے۔فُرُوج کے معنی ہیں سوراخ۔(ق:١٧) وَرِيدَاهُ فِي حَلْقِهِ وَالْحَبْلُ اس کی مفرد فَرْج ہے۔مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ سے مراد گلے کی دور گئیں ہیں۔اور انحبل کندھے کی حَبْلُ الْعَاتِقِ۔۔رگ کو بھی کہتے ہیں۔وَقَالَ مُجَاهِدٌ مَا تَنْقُصُ الأَرْضُ (ق: ٥) اور مجاہد نے کہا: مَا تَنْقُصُ الْأَرْضُ سے مراد اُن مِنْ عِظَامِهِمْ۔تَبْصِرَةٌ (ق:9) بَصِيرَةً کی ہڈیاں ہیں جو زمین آہستہ آہستہ کھارہی ہے۔حَبَّ الْحَصِيدِ (3):١٠) الْحِنْطَةُ بُسِقَتٍ تَبْصِرَةٌ کے معنی ہیں دیکھنا۔حَبَّ الْحَصِيْدِ کے (ق: ١١) الطَّوَالُ افَعَيْنَا ( : ١٦) معنی ہیں گیہوں۔بسقت یعنی لیے لیے۔اَفَعَيْنا أَفَأَعْيَا عَلَيْنَا۔وَقَالَ قَرِينُهُ (ق:۲۸) کے معنی ہیں کیا اس نے ہمیں تھکا دیا ہے۔وقال الشَّيْطَانُ الَّذِي قُتِضَ لَهُ۔فَنَقَبُوا (۳۷) ضَرَبُوا أَوْ الْقَى السَّمْعَ قَرِينه ( میں قرین) سے مراد شیطان ہے جو اس کے ساتھ لگا دیا گیا ہے۔فَنَقَبُوا کے معنی ہیں (شہروں میں) پھرے۔او القى الشمع سے یہ مراد ہے کہ ( 3 : ٣٨) لَا يُحَدِّثُ نَفْسَهُ بِغَيْرِهِ (غور سے سنے ) دل میں کسی اور کا خیال نہ گزرے۔حِينَ أَنْشَأَكُمْ وَأَنْشَأَ خَلْقَكُمْ۔حِينَ أَنْهَاكُمْ یعنی جب تمہیں پیدا کیا۔وَأَنْهَا خَلَقَكُمْ اور تمہاری پیدائش کو شروع کیا۔رَقِيبٌ عَتِيدٌ ( ق : ١٩) رَصَدْ۔سَابِقُ وَ رَقِيبٌ عَتِيد یعنی ایک نگہبان ہے جو ہر وقت شَهِيدٌ (ق: ۲۲) الْمَلَكَانِ كَاتِبٌ پتی سے اپنے کام پر موجود ہے۔سَابِقُ وَ شَهِيدٌ چستی وَشَهِيدٌ، شَهِيدٌ شَاهِدٌ بِالْغَيْبِ سے مراد دو فرشتے ہیں۔ایک لکھنے والا اور دوسرا گواہ۔شہید کے معنی ہیں وہ جو دل کی توجہ سے لُغُوب (ق:٣٩) النَّصَبُ۔دیکھ رہا ہو۔لُغُوب کے معنی ہیں تھکان۔وَقَالَ غَيْرُهُ نَضِيد (ق:۱۱) الْكُفْری اور (مجاہد کے سوا) آوروں نے کہا: نضید یعنی گابھا 1 فتح الباری مطبوعہ انصاریہ میں اس جگہ لفظ بالقلب ہے (فتح الباری جزء ۸ حاشیہ صفحہ ۷۵۴) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔