صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 100 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 100

صحیح البخاری جلد ۱۲ 1++ ۶۵ - کتاب التفسير / الحجرات سلوک کی ان راہوں کے لئے خضر راہ اور بطور معیار و محک قرار دیا گیا ہے۔فرماتا ہے: وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَبِكَ مَعَ الَّذِيْنَ الْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ مِنَ الشَّهِينَ وَالصِّدِيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّلِحِينَ وَحَسُنَ أُولَبِكَ رَفِيقًا یعنی اور جو لوگ بھی اللہ اور اس رسول کی اطاعت کریں گے وہ اُن لوگوں میں شامل ہوں گے جن پر اللہ نے انعام کیا ہے۔یعنی انبیاء اور صدیقین اور شہداء اور صالحین (میں)۔اور یہ لوگ ( بہت ہی) اچھے رفیق ہیں۔(ترجمہ تفسیر صغیر) قرآن کریم میں مومنوں کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے: امر تُرِيدُونَ أَنْ تَسْتَلُوا رَسُولَكُمْ كَمَا سُبِلَ مُوسَى مِنْ قبل ، وَ مَنْ يَتَبَذَلِ الْكُفْرَ بِالْإِيمَانِ فَقَدْ ضَلَّ سَوَاءَ السَّبِيلِ (البقرة: 109) کیا تم اپنے رسول سے اسی طرح سوال کرنا چاہتے ہو جس طرح (اس سے) پہلے موسیٰ سے سوال کیے گئے تھے۔اور (بھول جاتے ہو کہ) جو شخص کُفر کو ایمان سے بدل لے تو سمجھو کہ وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔(ترجمہ تفسیر صغیر) سوال کرنے میں بے احتیاطی بعض اوقات بے ادبی میں داخل ہو جاتی ہے۔اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ادب کو ملحوظ رکھتے ہوئے مؤمنوں کو یہ نصیحت کی گئی ہے کہ سوال کرتے ہوئے ادب کے پہلو کو مقدم رکھو۔صحابہ نے اس نصیحت کو ایسا حرز جان بنایا کہ وہ انتظار کرتے کہ کوئی بدوی آجائے اور وہ سوال کرے۔کیونکہ وہ جانتے تھے کہ رسول کی بے ادبی معمولی گناہ نہیں بلکہ تمام اعمال کے اکارت جانے اور تمام سعادتوں کے کھو جانے کا موجب بن سکتا ہے۔صحابہ رسول کے عشق رسول، محبت، ادب اور فدائیت کا یہ عالم تھا کہ دشمن بھی اسے دیکھ کر ورطہ حیرت میں پڑ جاتے تھے۔اس کا ایک نظارہ عروہ بن مسعود ثقفی نے دیکھا جب وہ صلح حدیبیہ کا معاہدہ کرنے کفار مکہ کا نمائندہ بن کر آیا، وہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس کی منظر کشی کچھ یوں بیان کرتا ہے کہ جب کبھی آپ انہیں کوئی حکم دیتے تو آپ کا حکم بجالانے کے لئے وہ ایک دوسرے سے آگے بڑھ کر لپکتے اور جب آپ وضو کرتے تو قریب ہوتا کہ وضو کے پانی کے تبرک پر لڑ پڑیں۔اور جب وہ ان کے پاس بات کرتے تو اپنی آوازوں کو دھیما کر لیتے۔اور صحابہ آپ کی عظمت کی وجہ سے آپ کی طرف نظر اٹھا کر نہ دیکھتے تھے۔پھر عروہ اپنے ساتھیوں کی طرف لوٹ گیا، اُن سے کہا: اے میری قوم! بخدا میں تو بادشاہوں کے پاس بھی جا چکا ہوں۔قیصر و کسری کے پاس بھی گیا اور نجاشی کے پاس بھی گیا۔بخدا میں نے کبھی کوئی بادشاہ نہیں دیکھا جس کے ساتھی اُس کی وہ تعظیم کرتے ہوں جو تعظیم محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھی آپ کی کرتے ہیں۔اور اللہ کی قسم ! جب وہ (صلی اللہ علیہ وسلم) تھوکتے ہیں تو ان کے متبعین میں سے کوئی نہ کوئی اس کو اپنے ہاتھ میں لے لیتا اور اُسے اپنے منہ اور بدن پر (بطور تبرک) مل لیتا ہے۔اور جب وہ اُن کو حکم دیتے تو وہ حکم بجالانے کیلئے ایک دوسرے سے آگے بڑھتے ہوئے لپکتے ہیں اور جب وہ وضو کرتے تو قریب ہوتا ہے کہ وہ ( یعنی صحابہ ) وضو کے پانی پر آپس میں لڑ پڑیں اور جب وہ کوئی بات کرتے ہیں تو وہ اُن کے پاس اپنی آواز میں پست کرلیتے ہیں اور اُن کی عظمت کی وجہ سے اُن کی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھتے۔( صحیح بخاری ، کتاب الشروط باب ۱۵، روایت نمبر ۲۷۳۱-۲۷۳۲)