صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 99 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 99

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۹۹ ۶۵ - کتاب التفسير / الحجرات زیر باب روایات میں حضرت ابو بکر اور حضرت عمرہ کے متعلق یہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ اس آیت کے نزول کے بعد اس قدر محتاط ہو گئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جب بات کرتے تو اتنا آہستہ بولتے کہ بسا اوقات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی بات سمجھنے کے لیے انہیں کہنا پڑتا۔حضرت ثابت بن قیس جو طبعا جہیر الصوت تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں آنے سے گھبرانے لگے اور گھر بیٹھ گئے کہ مبادا مجھ سے بے ادبی ہو جائے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بلایا اور فرمایا تم ان میں سے نہیں ہو جن کے اعمال ضائع ہو جاتے ہیں تم تو اہل جنت میں سے ہو۔روایات میں یہ طرز کلام کئی جگہ پایا جاتا ہے کہ کسی واقعہ پر قرآن کریم کی کسی آیت کے اطلاق کرنے کو انزلی یا نزل کے لفظ سے بیان کر دیا جاتا ہے۔یہاں بھی بعض لوگوں نے اپنے خیال میں اس موقع پر حضرت ابو بکر اور حضرت عمر کی تکرار پر اس آیت کا اطلاق کیا ہے جو کہ درست نہیں۔قرآنِ کریم میں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں کہیں بھی اور کبھی بھی اس آیت کا اطلاق حضرت ابو بکر اور حضرت عمرہ پر نہیں کیا گیا۔امر واقعہ یہ ہے کہ شیخین (حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ادب اور آپ کے سامنے عجز و نیاز میں تمام صحابہ میں ممتاز اور اپنی مثال آپ تھے۔حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: شان نزول سے ہمیشہ یہ مراد نہیں ہوتا کہ ان آیات کے نزول سے وہی امر مراد ہے جو شان نزول کے تحت میں بیان کیا جاتا ہے۔بلکہ اصل یہ ہے کہ وحی الہی کے نزول کے کچھ اسباب ہوتے ہیں۔ان میں سے اس واقعہ پر بھی وہ آیات چسپاں ہوتی ہیں ورنہ اگر کسی ایک واقعہ کو مخصوص کر لیں تو پھر قرآن مجید کی عظمت جو اس کے عام اور ابدی ہونے میں ہے کم ہو جاتی ہے۔“ ( حقائق الفرقان جلد ۴ صفحه ۳۲۵) سورۃ الحجرات کی یہ آیات بھی اپنی شان اور مقام میں ایک دائمی اصل الاصول کے طور پر ہیں۔ان آیات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام ادب و مرتبہ اور آپ کی ارفع شان بیان کی گئی ہے اور اس بات کی تاکید کی گئی ہے کہ کسی مومن کا کسی قول یا فعل سے ایسا کوئی اظہار نہ ہو جو اپنے اندر بے ادبی کارنگ رکھتا ہو۔مثل مشہور ہے: الطَّرِيقَةُ كُلُهَا أَدب۔اور یہ بھی کہا جاتا ہے ادب پہلا قرینہ ہے محبتوں کے قرینوں میں۔اللہ اور اس کے رسول سے محبت تو مومنوں کے ایمان کا جزو اعظم ہے بلکہ مومن کی ترقیات محبت رسول اور عشق رسول سے وابستہ کی گئی ہیں۔قرآنِ کریم میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کو شرط اول اور روحانی انعامات کے حصول کا سب سے بڑا ذریعہ قرار دیا گیا ہے جیسا کہ سورۃ النساء آیت ۷۰ میں انعام یافتہ گروہ میں شامل ہونے کے لیے اللہ اور رسول کی اطاعت کو