صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 98
صحیح البخاری جلد ۱۲ حَابِس ۹۸ ۶۵ - کتاب التفسير / الحجرات فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ مَا أَرَدْتَ إِلَى تم میری مخالفت ہی کرنا چاہتے ہو۔حضرت عمرؓ أَوْ إِلَّا خِلَافِي فَقَالَ عُمَرُ مَا أَرَدْتُ نے کہا: میں نے آپ کی مخالفت کا ارادہ نہیں کیا خِلَافَكَ فَتَمَارَيَا حَتَّى ارْتَفَعَتْ اور دونوں آپس میں جھگڑ پڑے۔یہاں تک کہ أَصْوَاتُهُمَا فَنَزَلَ فِي ذَلِكَ يَايُّهَا الَّذِينَ ان کی آوازیں بلند ہوئیں تو اس بارہ میں یہ آیت امَنُوا لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللهِ وَرَسُولِهِ آخر تک نازل ہوئی: يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللهِ وَرَسُولِهِ - (الحجرات: ٢) حَتَّى انْقَضَتِ الْآيَةُ۔أطرافه: ٤٣٦٧، ٤٨٤٥، ٧٣٠٢- باب وَ لَوْ أَنَّهُمْ صَبَرُوا حَتَّى تَخْرُجَ إِلَيْهِمْ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ (الحجرات: ٦) (اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا:) اور اگر وہ اس وقت تک صبر کرتے کہ تو خود اُن کے پاس باہر جاتا تو یہ ان کے لئے بہتر ہوتا تشريح : لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِي۔۔ان ابواب کے تحت سورۃ الحجرات آیت ۲ تا ۶ میں جن لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے ان کے متعلق ابن عطیہ اور بعض شارحین نے لکھا ہے کہ ان سے مراد عرب کے بادیہ نشین اجڈ اور غیر مہذب لوگ ہیں۔نیز شارحین نے اس کو بنو تمیم کے وفد کی آمد پر ان کے بعض لوگوں کے طرزِ عمل کے متعلق بیان کیا ہے کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اونچی آواز سے اور حجرات کے پیچھے سے بلاتے تھے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۷۵۲) اس مضمون کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تربیت یافتہ صحابہ سے دور کا بھی تعلق نہیں ہے جو آپ کے نور سے منور ہو کر ایسے چمکے کہ آپ نے فرمایا: أَصْحَابِي كَالنُّجُومِ بِأَتِهِمُ افْتَدَيْتُمُ اهْتَدَيْتُم سے یعنی میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں، تم ان میں سے جس کے پیچھے بھی چل پڑو، تم ہدایت پا جاؤ گے۔بعض شارحین نے لکھا ہے کہ یہ آیات بعض منافقین کے تعلق میں نازل ہوئیں۔وو ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ اور اس کے رسول کے سامنے پیش قدمی نہ کیا کرو۔“ (جامع بيان العلم وفضله، بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ مِنْ أَقَاوِيلِ السَّلَفِ عَلَى أَنَّ الِاخْتِلَافَ خَطَأُ وَصَوَابٌ يَلْزَمُ طالب الحجة عنده، جزء ۲ صفحه ۹۲۵)