صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 96
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۹۶ ۶۵ - کتاب التفسير / الحجرات أَحَدُهُمَا بِالْأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ أَخِي بن مجاشع کے خاندان میں سے تھے سردار بنانے کا بَنِي مُجَاشِعٍ وَأَشَارَ الْآخَرُ بِرَجُلٍ آخَرَ مشورہ دیا اور دوسرے نے کسی دوسرے شخص کے قَالَ نَافِعٌ لَا أَحْفَظُ اسْمَهُ فَقَالَ متعلق مشورہ دیا۔نافع کہتے تھے: مجھے اس کا نام یاد أَبُو بَكْرٍ لِعُمَرَ مَا أَرَدْتُ إِلَّا خِلَافِی نہیں رہا۔حضرت ابو بکر نے حضرت عمرؓ سے کہا: قَالَ مَا أَرَدْتُ خِلَافَكَ فَارْتَفَعَتْ تم نے ہمیشہ میری مخالفت ہی کرنی چاہی۔حضرت أَصْوَاتُهُمَا فِي ذَلِكَ فَأَنْزَلَ اللهُ: عمر نے کہا: میں نے آپ کی مخالفت کا ارادہ نہیں يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ کیا۔اور اس وجہ سے ان دونوں کی آوازیں بلند ہوئیں۔اللہ نے ( یہ ) وحی نازل کی: اے مومنو! (الحجرات:3) الْآيَةَ، قَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ اپنی آواز اونچی نہ کیا کرو۔حضرت ابن زبیر کہتے فَمَا كَانَ عُمَرُ يُسْمِعُ رَسُولَ اللَّهِ تھے: پھر اس آیت کے بعد حضرت عمر اتنی آہستہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ هَذِهِ الْآيَةِ بات کرتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بعض حَتَّى يَسْتَفْهِمَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ ذَلِكَ عَنْ وقت سن بھی نہیں سکتے تھے، یہاں تک کہ آپ أَبِيهِ يَعْنِي أَبَا بَكْرٍ۔ان سے پوچھتے۔اور حضرت عبد اللہ بن زبیر نے اپنے نانا یعنی حضرت ابو بکر کے متعلق ایسا آہستہ بات کرنے سے متعلق) نہیں کہا۔أطرافه: ٤٣٦٧، ٤٨٤٧، ٧٣٠٢- ٤٨٤٦ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ۴۸۴۶: علی بن عبد اللہ (مدینی) نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ سَعْدٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ کیا کہ از ہر بن سعد نے ہمیں بتایا۔ابن عون نے قَالَ أَنْبَأَنِي مُوسَى بْنُ أَنَسٍ عَنْ أَنَسٍ میں خبر دی۔انہوں نے کہا: موسیٰ بن انس نے مجھے بتایا۔موسیٰ نے حضرت انس بن مالک رضی بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ ہم نے ثابت صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ افْتَقَدَ ثَابِتَ بن قیس کو غیر حاضر پایا۔ایک شخص نے کہا: بْنَ قَيْسٍ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ يارسول اللہ ! میں آپ کو ان کا پتہ لائے دیتا ہوں۔أَنَا أَعْلَمُ لَكَ عِلْمَهُ فَأَتَاهُ فَوَجَدَهُ چنانچہ وہ ان کے پاس آیا اور ان کو اپنے گھر میں جَالِسًا فِي بَيْتِهِ مُنَكِّسًا رَأْسَهُ فَقَالَ لَهُ سر اوندھا گئے بیٹھے ہوئے پایا۔اس نے ان سے