صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 95
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۹۵ ۶۵ - کتاب التفسير / الحجرات یہ آیت ہمارے متعلق نازل ہوئی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو لوگوں نے ہر ایک کے دویا تین نام رکھے ہوئے تھے۔جب اُسے ان ناموں میں سے کسی ایک سے پکارا جاتا تو وہ ناراض ہوتا۔اس لیے انہیں اس سے منع کیا گیا ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه ۷۴۹، ۷۵۰) دراصل اس آیت میں قوموں اور افراد کو تحقیر سے دوسروں کا نام لینے سے منع کیا گیا ہے۔کیونکہ اس سے افراد اور قوموں کے درمیان نفرت پیدا ہوتی ہے جو فتنہ اور فساد اور بالآخر جنگ پر منتج ہوتی ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: پلید دل سے پلید باتیں نکلتی ہیں اور پاک دل سے پاک باتیں۔انسان اپنی باتوں سے ایسا ہی پہچانا جاتا ہے جیسا کہ درخت اپنے پھلوں سے۔جس حالت میں اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں صاف فرما دیا کہ لا تَنَابَزُوا بِالالْقَابِ (الحجرات: ١٢) یعنی لوگوں کے ایسے نام مت رکھو جو اُن کو بُرے معلوم ہوں تو پھر بر خلاف اس آیت کے کرنا کن لوگوں کا کام ہے۔(تحفه غزنویه ، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۵۴۱) بَاب ۱ : لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ (الحجرات:٣) الْآيَةَ ( اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: ) نبی کی آواز سے اپنی آواز اُونچی نہ کیا کرو تَشْعُرُونَ (الحجرات: ٣) تَعْلَمُونَ وَمِنْهُ تَشْعُرُونَ کے معنی ہیں تم جانتے ہو اور اسی سے الشاعر ہے ( یعنی جاننے والا۔) الشَّاعِرُ۔٤٨٤٥ : حَدَّثَنَا يَسَرَةُ بْنُ صَفْوَانَ :۴۸۴۵: سیره بن صفوان بن جمیل لخمی نے ہم بْنِ جَمِيلِ اللَّحْمِيُّ حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ سے بیان کیا کہ نافع بن عمر نے ہمیں بتایا۔انہوں عُمَرَ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ كَادَ نے ابن ابی ملیکہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: قریب تھا کہ دو بہتر آدمی ہلاک ہو جاتے ، یعنی الْخَيْرَانِ أَنْ يُهْلِكًا أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما۔انہوں رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا رَفَعَا أَصْوَاتَهُمَا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں جب آپ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کے پاس بنو تمیم کا قافلہ آیا اپنی آوازوں کو بلند کیا۔حِينَ قَدِمَ عَلَيْهِ رَكْبُ بَنِي تَمِيمٍ فَأَشَارَ ان دونوں میں سے ایک نے اقرع بن حابس کو جو