صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 94 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 94

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۹۴ ۶۵ - کتاب التفسير / الحجرات نزدیک اس سے مراد یہ ہے کہ جنگ اور دینی احکام میں اللہ اور رسول کو چھوڑ کر کوئی فیصلہ نہ کرو۔اور کلبی کے نزدیک اس کے معنی یہ ہیں کہ جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی حکم نہ دیں کسی قول اور فعل میں رسول سے آگے نہ بڑھو۔ابن زید کہتے ہیں کہ اللہ اور رسول کو چھوڑ کر کوئی امر حتمی طور پر طے نہ کرو، اور اللہ اور رسول سے آگے نہ بڑھو۔(عمدۃ القاری جزء ۱۹ صفحه ۱۸۱) در اصل اس آیت میں اللہ اور اس کے رسول کا ادب سکھایا گیا ہے اور یہ تعلیم دی گئی ہے کہ الإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ (بخاري، كتاب الجهاد والسير ، بَابُ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَاءِ الإِمَامِ وَيُتَّقَى به) یعنی امام تو ایک ڈھال ہے جس کے پیچھے ہو کر لڑا جاتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں امام سے پہلے سر اُٹھانے والے کے گناہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمايا: أما تخشَى أَحَدُكُمْ أَوْلَا يَخْشَى أَحَدُكُمْ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ قَبْلَ الإِمَامِ ، أَنْ يَجْعَلَ اللَّهُ رَأْسَهُ رأس حِمَارٍ ، أَوْ يَجْعَلَ اللهُ صُورَتَهُ صُورَةً حَمَارٍ ؟ (بخارى، كتابُ الأَذَانِ، بَابُ إِثْمِ مَنْ رَفَعَ رَأْسَهُ قَبْلَ الإِمَامِ) یعنی کیا تم میں سے کوئی جب وہ اپنا سر امام سے پہلے اُٹھاتا ہے اس بات سے نہیں ڈرتا کہ اللہ تعالیٰ اس کے سر کو گدھے کا سر بنادے؟ یا ( فرمایا: اللہ تعالیٰ اس کی شکل گدھے کی شکل بنادے۔اس حدیث میں یہ اشارہ ہے کہ امام سے آگے بڑھنے کی کوشش کرنا پرلے درجے کی حماقت ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”اے ایمان والو ! خدا اور رسول کے حکم سے بڑھ کر کوئی بات نہ کرو یعنی ٹھیک ٹھیک احکام خدا اور رسول پر چلو۔اور نافرمانی میں خدا سے ڈرو۔خدا سنتا بھی ہے اور جانتا بھی ہے۔اب ظاہر ہے کہ جو شخص محض اپنی خشک توحید پر بھروسہ کر کے جو دراصل وہ توحید بھی نہیں) رسول سے اپنے تئیں مستغنی سمجھتا ہے اور رسول سے قطع تعلق کرتا ہے اور اس سے بالکل اپنے تئیں علیحدہ کر دیتا ہے اور گستاخی سے قدم آگے رکھتا ہے وہ خدا کا نا فرمان ہے اور نجات سے بے نصیب۔“ (حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۲۸) وَلَا تَنَابَزُوا : فرماتا ہے وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْإِيْمَانِ وَمَنْ لَمْ يَتُبْ فَأُولَيكَ هُمُ الظَّلِمُونَ (الحجرات: ۱۲) اور نہ ایک دوسرے کو بُرے ناموں سے یاد کیا کرو، کیونکہ ایمان کے بعد اطاعت سے نکل جانا ایک بہت ہی بُرے نام کا مستحق بنا دیتا ہے ( یعنی فاسق کا ) اور جو بھی تو بہ نہ کرے، وہ ظالم ہو گا۔قتادہ کہتے ہیں کہ کوئی کسی مسلمان بھائی کو فاسق یا منافق نہ کہے۔حسن بصری کہتے ہیں جب کوئی یہودی مسلمان ہو تا تو اسے مسلمان ہونے کے بعد بھی لوگ یہودی کہتے جس سے انہیں منع کیا گیا ہے۔ابو جبیرہ بن ضحاک کہتے ہیں