صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 93
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۹۳ ۶۵ - کتاب التفسير / الحجرات ٤٩ - سُورَةُ الْحُجُرَاتِ وَقَالَ مُجَاهِدٌ لَا تُقَدِّمُوا (الحجرات: ۲) اور مجاہد نے کہا: لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللهِ لَا تَفْتَاتُوا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ وَرَسُولِهِ ) سے یہ مراد ہے کہ تم رسول اللہ صلی اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يَقْضِيَ اللهُ عَلَی علیہ وسلم کے سامنے بڑھ بڑھ کر باتیں نہ کرو، اس لِسَانِهِ امْتَحَنَ (الحجرات: ٤) أَخْلَص۔ وقت تک انتظار کرو کہ اللہ ان کی زبان سے (کسی وَلَا تَنَابَزُوا (الحجرات: ١٢) يُدْعَى بِالْكُفْرِ بات کا فیصلہ کر دے۔ امتحن کے معنی ہیں اس نے لکھیرا۔ وَلَا تَنَابَزُوا بَعْدَ الْإِسْلَامِ يَلِتْكُمُ (الحجرات: ١٥) مسلمان ہونے کے بعد کفر کے الفاظ سے نہ يَنْقُصْكُمْ، أَلَتْنَا نَقَصْنَا ۔ سے یہ مراد ہے کہ پکارے جائیں۔ یکتکم کے معنی ہیں تم سے کمی کرے گا۔ اکتنا کے معنی ہم نے گھٹایا۔ تشریح: حضرت علیہ السل الراوی رحمہ اللہ تعالی رماتے ہیں: ” یہاں صحابہ کی یہ ذمہ داری بیان فرمائی گئی ہے کہ اس عظیم الشان رسول کے سامنے نہ تو نظر اٹھا کر بات کرنا تمہیں زیب دیتا ہے نہ اونچی آواز میں۔ چنانچہ وہ لوگ جو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دور سے آوازیں دیتے ہوئے اپنے گھر سے باہر آنے کی تکلیف دیا کرتے تھے ان پر سخت ناراضگی کا اظہار فرمایا گیا ہے۔“ ८८ (ترجمه قرآن کریم حضرت خلیفة المسیح الرابع، تعارف سورۃ الحجرات، صفحه ۹۲۹) لَا تُقَدِّمُوا : فرماتا ہے يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللهِ وَ رَسُولِهِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عليم (الحجرات: ۲) یعنی اے مومنو! اللہ اور اس کے رسول کے سامنے بڑھ بڑھ کر باتیں نہ کیا کرو، اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو، اللہ بہت سننے والا (اور ) جاننے والا ہے۔ (ترجمہ تفسیر صغیر) علامہ عینی لکھتے ہیں مفسرین نے اس آیت کے مختلف معانی بیان کیے ہیں۔ حضرت ابن عباس نے اس کے معنی یہ کیے ہیں کہ کتاب اور سنت کے خلاف بات نہ کرو۔ اور حضرت ابن عباس سے یہ بھی منقول ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے بڑھ بڑھ کر باتیں نہ کرو۔ حضرت جابرؓ اور حسن بصری نے اس آیت کا نزول موقع حج سمجھتے ہوئے یہ معنی کیسے ہیں کہ رسول سے پہلے تم قربانیاں ذبح نہ کرو اور جو کر چکا ہو وہ دوبارہ قربانی کرے۔ ضحاک کے