صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 92
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۹۲ ۶۵ - كتاب التفسير / الفتح اُس وقت صحابہ بھاگے نہیں، صحابہ ڈرے نہیں، صحابہ کے رنگ زرد نہیں ہوئے۔ایک صحابی کہتے ہیں: خدا کی قسم! ہماری تلواریں میانوں سے باہر نکل رہی تھیں تا کہ وہ شخص جو ہم سے پہلے بیعت کرنا چاہتا ہو اس کی گردن کاٹ دیں۔اُنہوں نے یہ نہیں کیا کہ وہ موت کو دیکھ کر بھاگنے لگ گئے ہوں۔بلکہ انہوں نے کہا کہ کسی اور کا کیا حق ہے کہ وہ ہم سے آگے مرنے کے لئے جائے۔“ (خطبات محمود، خطبه جمعه فرموده ۵ دسمبر ۱۹۴۷، جلد ۲۸ صفحه ۴۳۹ تا ۴۴۰) حدیبیہ کے موقع پر عمرہ کی غرض سے آنے والوں کی تعداد تیرہ سو سے سولہ سوتک بیان کی جاتی ہے۔بلکہ ابن اسحاق کے نزدیک تو یہ تعداد صرف سات سو ہے۔امام ابن حجر نے اس اختلاف پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ابن اسحاق کی بیان کردہ تعداد کسی بھی روایت سے ثابت نہیں ہوتی، سوائے اس کے کہ اسے حضرت جابر کی اُس روایت سے مستنبط سمجھا جائے جس میں حدیبیہ کے موقع پر ستر اونٹوں کی قربانی کا ذکر ہے اور اگر ہر اونٹ کو دس افراد کی طرف سے قیاس کیا جائے تو یہ تعداد سات سو بنتی ہے۔لیکن اس میں یہ پہلو بھی قابل التفات ہے کہ حضرت جابڑ کی روایت یہ نہیں کہتی کہ اس موقع پر صرف اونٹوں ہی کی قربانی ہوئی ہے، کوئی اور جانور ذبح ہی نہیں ہوا۔بلکہ بعض روایات کے مطابق تو سب لوگ احرام کی حالت میں بھی نہیں تھے۔لہذا تعداد کا یہ بیان محض راویوں کا ذاتی خیال یا اندازہ ہی ہے۔(فتح الباری شرح کتاب المغازی، باب غزوة الحديبية، جزء صفحه ۵۴۹)