صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 91
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۹۱ ۶۵ - كتاب التفسير / الفتح موت کی قسم لی تھی جسے بیعت رضوان اور بیعت موت اور بیعت شجرہ بھی کہتے ہیں۔یہ وہ بیعت ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر لی جس کے بعد صلح حدیبیہ کا واقعہ ہوا۔آپ عمرہ کرنے کے لئے کچھ ساتھیوں سمیت مکہ گئے۔جب مکہ کے قریب پہنچے تو چونکہ کفار کو آپ کی آمد کا علم ہو گیاوہ ایک بڑا لشکر لے کر آپ کو روکنے کے لئے کھڑے ہو گئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی آدمی بھجوانا چاہا تا کہ وہ کفار کے عمائد سے گفتگو کرے اور اُن سے کہے کہ ہم تو صرف عمرہ کرنے کے لئے آئے ہیں لڑنے اور فساد کرنے کے لئے نہیں آئے، پھر کیوں ہم سے جنگ کی جاتی ہے۔جب آپ نے اس بارہ میں صحابہ سے مشورہ لیا تو سب نے مشورہ دیا کہ اس گفتگو کے لئے حضرت عثمان کو بھجوایا جائے۔کیونکہ اُن کے رشتہ دار اُس وقت بر سر حکومت تھے۔آپ نے اس مشورہ کے مطابق حضرت عثمان کو بھجوا دیا۔جب حضرت عثمان مکہ پہنچے تو چونکہ اُن کے رشتہ دار بھی اور دوست بھی اور عزیز بھی سب وہیں تھے ، آپ نے باتیں کیں تو باتیں لمبی ہو گئیں اور بحث مباحثہ طول پکڑ گیا۔حضرت عثمان کو واپس آنے میں دیر ہو گئی اور کفار کے لشکر میں سے کسی شخص نے یہ مشہور کر دیا کہ عثمان شہید کر دیئے گئے ہیں۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ افواہ پہنچی تو آپ نے اعلان فرمایا کہ وہ مسلمان جو آج میرے ہاتھ پر موت کی بیعت کرنا چاہتے ہوں وہ جمع ہو جائیں۔اس آواز کا بلند ہونا تھا کہ صحابہ پر وانوں کی طرح آپ کے گرد جمع ہو گئے۔آپ نے ایک مختصر سی تقریر کی اور فرمایا کہ کہا گیا ہے کہ عثمان شہید کر دیئے گئے ہیں۔ادنیٰ سے ادنی اقوام میں بھی سفیر کی عزت کی جاتی ہے اور اُسے مارا نہیں جاتا۔اگر یہ خبر درست ہے تو میں تم سے قسم لینا چاہتا ہوں کہ آج ہم مکہ پر حملہ کریں گے اور یا تو سارے کے سارے مارے جائیں گے اور یا مکہ کو فتح کر کے واپس لوٹیں گے۔آپ نے فرمایا: وہی شخص آج بیعت کرے جو اپنے دل میں یہ عزم رکھتا ہو کہ یا تو وہ فتح حاصل کرے گا یا اسی میدان میں مارا جائے گا۔