صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 90
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۹۰ ۶۵ - كتاب التفسير / الفتح أَنْفُسَكُمْ فَلَقَدْ رَأَيْتُنَا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ حضرت علی نے کہا: ہاں (دیکھتا ہوں)۔ حضرت يَعْنِي الصُّلْحَ الَّذِي كَانَ بَيْنَ النَّبِيِّ سہل بن حنیف نے کہا: اپنے آپ کو ہی غلطی پر صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُشْرِكِينَ کبھو (اپنے نفسوں پر اتنا اعتمد نہ کیا کرو) کیونکہ میں حدیبیہ کے دن یعنی اس صلح میں جو کہ نبی صلی الی ام وَلَوْ نَرَى قِتَالًا لَقَاتَلْنَا فَجَاءَ عُمَرُ اور مشرکوں کے درمیان تھی اپنے تئیں دیکھ چکا ہوں۔ اگر ہم لڑنا مناسب سمجھتے تو ہم ضرور لڑتے۔ فَقَالَ أَلَسْنَا عَلَى الْحَقِّ وَهُمْ عَلَى الْبَاطِلِ أَلَيْسَ قَتْلَانَا فِي الْجَنَّةِ حضرت عمرؓ بھی آئے اور کہنے لگے : کیا ہم حق پر وَقَتْلَاهُمْ فِي النَّارِ قَالَ بَلَى فَقَالَ نہیں اور وہ باطل پر نہیں ؟ کیا ہمارے مقتول جنت فَفِيمَ أُعْطِي الدَّنِيَّةَ فِي دِينِنَا وَنَرْجِعُ میں اور ان کے مقتول آگ میں نہیں ہوں گے ؟ وَلَمَّا يَحْكُمِ اللَّهُ بَيْنَنَا فَقَالَ يَا ابْنَ آپؐ نے فرمایا: کیوں نہیں، ضرور۔ حضرت عمرؓ نے الْخَطَّابِ إِنِّي رَسُولُ اللهِ وَلَنْ کہا: پھر ہم اپنے دین کے متعلق یہ ذلت کیوں قبول يُضَيِّعَنِي اللهُ أَبَدًا فَرَجَعَ مُتَغَيِّظًا فَلَمْ کریں اور یونہی ایسے وقت میں واپس ہو جائیں کہ يَصْبِرْ حَتَّى جَاءَ أَبَا بَكْرٍ فَقَالَ يَا ابھی اللہ نے ہمارے درمیان فیصلہ نہیں کیا۔ یہ أَبَا بَكْرٍ أَلَسْنَا عَلَى الْحَقِّ وَهُمْ عَلَى سن کر آپؐ نے فرمایا: خطاب کے بیٹے میں اللہ کا رسول ہوں اور اللہ مجھے کبھی ضائع نہیں کرے گا۔ الْبَاطِلِ قَالَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ إِنَّهُ یہ سن کر) حضرت عمر بن خطاب غصے سے بھرے رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَنْ لوٹ گئے اور صبر نہیں کیا کہ جھٹ حضرت ابو بکر يُضَيِّعَهُ اللَّهُ أَبَدًا فَنَزَلَتْ سُورَةُ الْفَتْحِ کے پاس چلے گئے اور کہنے لگے : ابو بکر؟! کیا ہم حق پر اور وہ باطل پر نہیں؟ انہوں نے کہا: خطاب کے بیٹے! وہ اللہ کے رسول صلی الم ہیں اور اللہ ان کو ہر گز ضائع نہیں کرے گا۔ پھر سورہ فتح نازل ہوئی۔ أطرافه: ۳۱۸۱، ۳۱۸۲، 4189، 7308۔ تشريح : إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ : حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ساری عمر میں صرف ایک دفعہ صحابہؓ سے