صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 88
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۸۸ ۶۵ - كتاب التفسير / الفتح تشريح : هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ السَّكِينَةَ : اس باب کے ذیل میں جو روایت بیان ہوئی ہے یہ حضرت اسید بن حضیر کا واقعہ ہے کہ ایک بار جب وہ نماز تہجد میں قرآن کریم کی تلاوت کر رہے تھے ، آسمان سے ایسی سکینت نازل ہوئی کہ اس کا اثر ان کے گھر کے جانور پر بھی ہونے لگا۔ یہ وہ سکینت تھی جو قرآن پڑھنے کی نتیجہ میں نازل ہوئی۔ اس روایت سے صحابہ کی عبادات اور ان کے گھروں کے پاکیزہ ماحول کا اندازہ ہوتا ہے۔ ان کی عبادات ایسی تھیں کہ فرشتوں کا نزول ہوتا تھا۔ صحابہ کی ان عبادات کے تعلق میں قرآن کریم فرماتا ہے: تتجافی جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَ طَبَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ )) هُمْ يُنْفِقُونَ (السجدة : ۱۷) (اور ) ان (مومنوں) کے پہلو ان کے بستروں سے الگ ہو جاتے ہیں (یعنی تہجد کی نماز پڑھنے کے لئے ) (اور) وہ اپنے رب کو اس کے عذابوں سے بچنے کے لئے اور اس کی رحمتوں کو حاصل کرنے کے لئے پکارتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خدا کی راہ میں خرچ کرتے رہتے ہیں۔ (ترجمہ تفسیر صغیر ) صحابہ کی ان عبادات کا نہایت پر کیف نقشہ اس آیت میں کھینچا گیا ہے۔ فرماتا ہے : تَرَاهُمْ رُكَعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللهِ وَرِضْوَانًا سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِّنْ أَثَرِ السُّجُودِ (الفتح: ۳۰) تو انہیں رکوع کرتے ہوئے اور سجدہ کرتے ہوئے دیکھے گا وہ اللہ ہی سے فضل اور رضاء اور رضا چاہتے ہیں۔ سجدوں کے اثر سے ان کے چہروں پر ان کی نشانی ہے۔ بابه : إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ (الفتح: ١٩) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: ) جب وہ درخت کے نیچے تیری بیعت کر رہے تھے ٤٨٤٠ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ۴۸۴۰: ہم سے قتیبہ بن سعید ۔ نے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ جَابِرٍ ہمیں سفیان بن عیینہ ) نے بتایا۔ انہوں نے عمرو قَالَ كُنَّا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ أَلْفًا وَأَرْبَعَ (بن دینار ) سے ، عمرو نے حضرت جابر (انصاری) مِائَةٍ۔ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ہم حدیبیہ کے دن چودہ سو (۱۴۰۰) آدمی تھے۔ أطرافه: ٣٥٧٦ ، ٤١٥٢ ، ٤١٥٣، ٤١٥٤، ٥٦٣٩۔ ٤٨٤١ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ ۴۸۴۱: علی بن عبد اللہ (مدینی) نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا شَبَابَةُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ کیا کہ شبابہ نے ہمیں بتایا۔ شعبہ نے ہم سے بیان قَالَ سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ صُهْبَانَ عَنْ کیا۔ انہوں نے قتادہ سے روایت کی۔ انہوں نے عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلِ الْمُزَنِي {إِنِّي ! } کہا: میں نے عقبہ بن صہبان سے سنا۔ وہ حضرت ا یہ لفظ عمدۃ القاری کے مطابق ہے۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۹ صفحه (۱۷۹) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔