صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 87
صحیح البخاری جلد ۱۲ AZ ۶۵ - كتاب التفسير / الفتح ہے۔میں نے اپنی روح اُس پر ڈالی۔وہ قوموں میں عدالت جاری کرے گا۔وہ نہ چلائے گا اور نہ شور کرے گا۔اور نہ بازاروں میں اُس کی آواز سنائی دے گی۔۔۔۔۔میں خداوند نے تجھے صداقت سے بلایا۔میں ہی تیرا ہاتھ پکڑوں گا اور تیری حفاظت کروں گا اور لوگوں کے عہد اور قوموں کے نور کے لئے تجھے دوں گا کہ تو اندھوں کی آنکھیں کھولے اور اسیروں کو قید سے نکالے۔۔۔سلع کے بسنے والے گیت گائیں۔پہاڑوں کی چوٹیوں پر سے للکار ہیں۔وہ خداوند کا جلال ظاہر کریں اور جزیروں میں اُس کی ثناء خوانی کریں اور اندھوں کو اُس راہ سے جسے وہ نہیں جانتے لے جاؤں گا۔میں ان کے آگے تاریکی کو روشنی اور اونچی نیچی جگہوں کو ہموار کر دوں گا۔تم میں کون ہے جو اس پر کان لگائے۔(یسعیاہ باب ۴۲: ۱-۲۵) بَاب ٤ : هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ السَّكِينَةَ (الفتح: ٥) ( اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا :) وہی ہے جس نے اطمینان کی حالت نازل کی ٤٨٣٩ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى :۴۸۳۹ عبید اللہ بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا۔عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ انہوں نے اسرائیل سے، اسرائیل نے ابو اسحاق الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَمَا رَجُلٌ سے، ابو اسحاق نے حضرت براء بن عازب) رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: ایک مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ بار نبی صلی ا نام کے صحابہ میں سے ایک شخص ( قرآن ) وَسَلَّمَ يَقْرَأُ وَفَرَسٌ لَهُ مَرْبُوطٌ فِي الدَّارِ پڑھ رہا تھا اور اس کا ایک گھوڑا گھر میں بندھا ہوا فَجَعَلَ يَنْفِرُ فَخَرَجَ الرَّجُلُ فَنَظَرَ فَلَمْ تھا، وہ بدکنے لگا۔یہ دیکھ کر وہ شخص باہر نکلا اور يَرَ شَيْئًا وَجَعَلَ يَنْفِرُ فَلَمَّا أَصْبَحَ ذَكَرَ دیکھا بھالا مگر کچھ نہ دیکھا اور وہ گھوڑا بدکتا رہا۔ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جب صبح ہوئی تو اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فَقَالَ تِلْكَ السَّكِينَةُ تَنَزَّلَتْ بِالْقُرْآنِ یہ ذکر کیا۔آپ نے فرمایا: یہی وہ سکینت کی حالت ہے جو قرآن پڑھنے کی وجہ سے (آہستہ آہستہ) أطرافه: ٣٦١٤، ٥٠١١۔نازل ہوتی ہے۔