صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 85
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۸۵ ۶۵ - كتاب التفسير / الفتح حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ہم نے تجھ کو کھلی کھلی فتح عطا فرمائی ہے یعنی عطا فرمائیں گے اور درمیان میں جو بعض مکروہات و شدائد ہیں وہ اس لیے ہیں تا خدائے تعالیٰ تیرے پہلے اور پچھلے گناہ معاف فرمادے یعنی اگر خدائے تعالیٰ چاہتا تو قادر تھا کہ جو کام مد نظر ہے وہ بغیر پیش آنے کسی نوع کی تکلیف کے اپنے انجام کو پہنچ جاتا اور بآسانی فتح عظیم حاصل ہو جاتی لیکن تکالیف اس جہت سے ہیں کہ تا وہ تکالیف موجب ترقی مراتب و مغفرت خطایا ہوں۔“ براہین احمدیہ حصہ چہارم، روحانی خزائن جلد اول صفحه ۶۱۵ حاشیه در حاشیه نمبر ۳) كَانَ يَقُومُ مِنَ اللَّيْلِ حَتَّى تَتَفَطَّرَ قَدَمَاهُ: حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب رضی اللہ عنہ اس روایت کی شرح بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: صا الرسل حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی الی علم کی پاکیزہ معنویات کا احاطہ کرنا ہمارے لئے لئے ممکن نہیں۔ عشق الہی کا کیا ہی بے پناہ جذبہ تھا جو گھنٹوں آپ کو لذت عبادت میں سرشار کھڑا رکھتا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے مناجاتِ الہی سے آپ کا دل سیر نہیں ہوتا تھا اور غایت درجہ لذت کی وجہ سے آپ کی طبیعت میں اکتاہٹ نہیں ہوتی تھی۔ آپ کی عبادت تھی یا آبشار محبت کا مسلسل بہاؤ۔ آپ کا قول قُرَّةُ عَيْنِي فِي الصَّلوة میری آنکھ کی ٹھنڈک نماز میں ہے۔ آپ کے عمل کی صحیح ترجمانی کرتا ہے۔“ ( صحیح بخاری ترجمه و شرح، کتاب التهجد، شرح باب ۶، جلد ۲ صفحہ ۵۲۰) بَاب : إِنَّا أَرْسَلْنَكَ شَاهِدًا وَ مُبَشِّرًا وَ نَذِيرًا (الفتح : ٩) ہم نے تجھے ( اپنی صفات کے لیے ) گواہ اور (مومنوں کے لیے ) بشارت دینے والا اور (کافروں کے لیے) ہو شیار کرنے والا بنا کر بھیجا ہے ٤٨٣٨ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ۴۸۳۸: عبد اللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عبد العزيز بن ابی سلمہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے هِلَالِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ ہلال بن ابی ہلال سے ، ہلال نے عطاء بن بیسار سے ، يَسَارٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عطاء نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ