صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 84
صحیح البخاری جلد ۱۲ AM ۶۵ - كتاب التفسير / الفتح صلح حدیبیہ ہی کے موقع پر نازل ہوئی تھی۔گویا اللہ تعالیٰ نے صلح اور قیام امن کا نام مسلمانوں کے لیے ایک کھلی کھلی فتح رکھا ہے اور حق بھی یہ ہے کہ صلح حدیبیہ ایک عظیم الشان فتح تھی جس کے مقابل میں ایک طرح سے بدر و خندق بھی حقیقت نہیں رکھتے۔کیونکہ گو بدر و خندق میں کفار کو ہزیمت ہوئی اور وہ مسلمانوں کے مقابلہ میں پسپا ہو کر لوٹے۔لیکن ان جنگوں میں مسلمانوں کو ان کے جہاد کا مقصد حاصل نہیں ہوا۔کیونکہ کفار ابھی تک اسی طرح برسر پیکار تھے اور جنگ جاری تھی۔لیکن حدیبیہ میں گو کوئی کشت و خون نہیں ہوا اور بظاہر مسلمانوں کو دب کر صلح کرنی پڑی، لیکن ان کے جہاد کا مقصد حاصل ہو گیا۔یعنی جنگ رُک گئی اور ملک میں امن قائم ہو گیا۔پس حقیقی فتح صلح حدیبیہ ہی تھی اور اسی لیے خدا نے اس کا نام فتح مبین رکھا اور یہ ایک نہایت زبر دست ثبوت اس بات کا ہے کہ مسلمانوں کی لڑائیاں دفاع یا قیام امن کے لیے تھیں نہ کہ اسلام کو بزور پھیلانے کی غرض سے۔“ (سیرت خاتم النبیین ملی ، مصنفہ حضرت مرزا بشیر احمد ایم اے، صفحہ ۲۹۶،۲۹۵) تبلیغ حق اور اصلاح خلق کی راہ میں جو جو روکیں تھیں وہ سب اس صلح کی برکت سے اُٹھا دی گئیں۔لفظ ذنب سے مراد وہ روکیں ہیں جو بوجہ مخالفانہ حالات فرض منصبی کی ادائیگی میں واقع ہو رہی تھیں۔ان روکوں کے اسباب دور ہونے پر نبی اکرم منی اور اپنی بعثت کی غرض و غایت پایہ تکمیل تک پہنچانے میں بہت جلد کامیاب ہو گئے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: " یہ سورۃ صلح حدیبیہ کے متعلق ہے اور اس میں کہا گیا ہے کہ فتح مکہ سے پہلے ایک اور فتح آنے والی ہے یعنی حدیبیہ کی صلح جس میں عرب کے بہت سے قبیلے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے معاہدہ کریں گے۔محمد رسول اللہ صلی علیکم کو چاہیئے اس وقت عفو سے کام لیں اور جو خطائیں عرب پہلے کر چکے ہیں ان کے لیے بھی مغفرت چاہیں اور ان کے لیے بھی جو صلح حدیبیہ اور فتح مکہ کے زمانہ کے درمیان میں ہونے والی ہیں۔ورنہ یہ مراد نہیں کہ رسول کریم ملی علیم نے کوئی گناہ کیا تھا۔چنانچہ ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ جہاں بھی ذنب کا ذکر آتا ہے فتح کے موقعہ پر آتا ہے پس ذنب سے مراد آپ کا کیا ہو ا گناہ نہیں۔بلکہ آپ کے متعلق کیا ہوا عرب قبائل یا کفار کا گناہ ہے۔“ (تفسیر صغیر، سورۃ الفتح، حاشیہ آیت ۳)