صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 83
صحیح البخاری جلد ۱۲ Ar ۶۵ - كتاب التفسير / الفتح عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَوَرَّمَتْ قَدَمَاهُ فَقِيلَ شعبہ) سے سنا۔وہ کہتے تھے کہ نبی صلی الم ( نماز لَهُ غَفَرَ اللهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ میں اتنا کھڑے ہوئے کہ آپ کے پاؤں سوج وَمَا تَأَخَّرَ قَالَ أَفَلَا أُكُونُ عَبْدًا گئے۔آپ سے کہا گیا: اللہ نے آپ کو پہلے بھی گناہوں سے محفوظ رکھا ہے اور بعد میں بھی۔شَكُورًا۔أطرافه : ۱۱۳۰، ٦٤۷۱۔آپ نے فرمایا: پھر کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں۔٤٨٣٧: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ۴۸۳۷: حسن بن عبد العزیز نے ہم سے بیان کیا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ که عبد الله بن يحيا نے ہمیں بتایا کہ حیوہ (بن شریح) عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ سَمِعَ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ نے ہمیں خبر دی۔حیوہ نے ابوالاسود (محمد بن عبد الرحمن) سے روایت کی۔انہوں نے عروہ سے رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ سنا۔عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُومُ مِنَ اللَّيْلِ حَتَّى روایت کی کہ نبی صلی ام رات کو نماز میں اتنا کھڑا تَتَفَطَّرَ قَدَمَاهُ فَقَالَتْ عَائِشَةُ لِمَ تَصْنَعُ رہتے تھے کہ آپ کے پاؤں پھٹ جاتے۔یہ دیکھ هَذَا يَا رَسُولَ اللهِ وَقَدْ غَفَرَ اللهُ لَكَ کر حضرت عائشہ نے کہا: یا رسول اللہ ! آپ ایسا مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ قَالَ کیوں کرتے ہیں۔حالانکہ اللہ نے آپ کو پہلے بھی أَفَلَا أُحِبُّ أَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا گناہوں سے محفوظ رکھا ہے اور بعد میں بھی۔فَلَمَّا كَثرَ لَحْمُهُ صَلَّى جَالِسًا فَإِذَا آپ نے فرمایا: کیا مجھے پسند نہیں کہ شکر گزار بندہ ہو جاؤں۔جب آپ کا جسم فربہ ہوا تو آپ بیٹھ کر أَرَادَ أَنْ يُرْكَعَ قَامَ فَقَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ۔نماز پڑھتے۔جب رکوع کرنا چاہتے اٹھ کھڑے ہوتے اور کچھ ( قرآن مجید) پڑھ کر رکوع کرتے۔أطرافه ۱۱۱۸ ، ۱۱۱۹ ، ١١٤۸، ١١٦١، ١١٦٨- مريح: لِيَغْفِرَ لَكَ اللهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تاخير: تا کہ جو کوتای تیرے متعلق پہلے ہو چکی ہے اور جو بعد میں ہونے کو ہے اس پر پردہ پوشی کر کے تم سے اس کے اثر کو ملیامیٹ کر دے۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ تحریر فرماتے ہیں: "إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا یعنی ہم نے تجھے ایک بڑی کھلی کھلی فتح عطا کی ہے۔امام راغب نے ”غفر“ کے معنی محفوظ رکھنا بھی کئے ہیں۔(المفردات فی غریب القرآن - غفر )