صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 82 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 82

صحیح البخاری جلد ۱۲ Ar ۶۵ - كتاب التفسير / الفتح آئندہ سال حج کے لیے آویں۔آپ نے اسے منظور فرمالیا۔حالانکہ صحابہ سے بہت اس پر راضی نہ تھے۔سوم یہ کہ اگر کوئی ہم (مشرکین ) میں سے مسلمان ہو جائے تو وہ آپ ہمراہ نہ لے جائیں۔اور اگر آپ ( نبی کریم) میں سے کوئی مرتد ہو جائے تو ہمیں واپس دیا جائے۔اسے بھی آپ نے مان لیا۔حضرت عمر خصوصیت سے اس پر گھبرا رہے تھے۔چہارم یہ کہ جب بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ اور مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ لکھنے لگے تو مشرکین مانع ہوئے اور کہا کہ ہم اگر آپ کو رسول مانتے تو یہ جھگڑا ہی کیوں کرتے۔یہ لفظ چونکہ لکھے جاچکے تھے۔حضرت علی کو ان کا مٹانا گوارانہ تھا۔اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خود مٹا دیا۔یہ چار شرطیں ایسی تھیں کہ صحابہ کو ان پر بڑا قلق تھا۔ایسی حالت میں یہ سورۃ نازل ہوئی: إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحا مبننا۔اب بتاؤ۔اس وقت اس پیشگوئی کا سمجھ میں آنا آسان تھا؟ ہر گز نہیں۔“ ( حقائق الفرقان جلد ۳ صفحه ۵۸۶) " حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: حدیبیہ کے قصہ کو خدا تعالیٰ نے فتح مبین کے نام سے موسوم کیا ہے اور فرمایا ہے: إنا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحا مبينا۔وہ فتح اکثر صحابہ پر بھی مخفی تھی بلکہ بعض منافقین کے ارتداد کی موجب ہوئی۔مگر دراصل وہ فتح مبین تھی۔گو اس کے مقدمات نظری اور عمیق تھے۔“ ( انوار الاسلام، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۹۰) بَاب :٢ : لِيَغْفِرَ لَكَ اللهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا (الفتح : ٣) اللہ تعالی کا یہ فرمانان) تا کہ جو کو تاہی تیرے متعلق پہلے ہو چکی ہے اور جو بعد میں ہونے کو ہے اس پر پردہ پوشی کر کے تم سے اس کے اثر کو ملیا میٹ کر دے اور تجھ پر اپنی نعمت کو پورا کرے اور تجھے صحیح راہ کی راہنمائی کرے ٤٨٣٦ : حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ ۴۸۳۶: صدقہ بن فضل نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنَا زِيَادٌ أَنَّهُ سَمِعَ ابن عیینہ نے ہمیں خبر دی۔زیاد بن علاقہ ) نے الْمُغِيرَةَ يَقُولُ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى الله ہم سے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت مغیرہ (بن