صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 81
صحیح البخاری جلد ۱۲ AM ۶۵ - كتاب التفسير / الفتح حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ قُرَّةَ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ معاویہ بن قرہ نے ہم سے عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ قَرَأَ النَّبِيُّ بیان کیا۔ انہوں نے حضرت عبد اللہ بن مغفل سے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سُورَةَ الْفَتْحِ فَرَجَعَ فِيهَا قَالَ مُعَاوِيَةُ نے فتح مکہ کے دن سوره سورہ فتح پڑھی اور آپؐ نے اس لَوْ شِئْتُ أَنْ أَحْكِيَ لَكُمْ قِرَاءَةَ النَّبِيِّ کو ترجیع کے سے پڑھا۔ حضرت معاویہؓ نے کہا: اگر صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَفَعَلْتُ۔ میں چاہوں کہ نبی صلی الہ ولیم کی قراءت کی طرح پڑھ کر تمہیں بتلاؤں تو میں ضرور ویسا پڑھ کر سناؤں۔ أطرافه: ٤٢٨١، ٥٠٣٤، ٥٠٤٧، ٧٥٤٠۔ تشريح : إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا: یقینا ہم نے تم کو ایک کھی کھلی میت بخشی ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحا مبینا سے مراد حدیبیہ ہے۔ حدیبیہ ایک کنویں کا نام ہے جو مکہ مکرمہ سے ایک منزل (۱۰میل) کے فاصلہ پر ہے۔ اسی نام سے حدیبیہ کی بستی مشہور ہے۔ کے اس بستی کی طرف سفر ایک خوا ایک خواب کی بناء پر صرف عمرہ کی غرض سے ذوالقعدہ (۶ھ) کے شروع میں اختیار کیا گیا تھا۔ نبی اکرم صلی الم نے خواب میں دیکھا کہ آپؐ صحابہؓ کے ساتھ بیت ! ساتھ بیت اللہ کا طواف کر رہے ہیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ اس واقعہ کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: صا سل ہجرت سے چھٹے سال حضور علیہ الصلوۃ والسلام کو ایک رویا ہوا کہ ہم مع صحابہ مکہ میں گئے ہیں اور عمرہ کے بعد حلق کروارہے ہیں۔ اس بناء پر آپ نے پندرہ سو کے ہمراہ مکہ کی طرف کوچ کیا۔ حدیبیہ کے پاس مقام فرمایا۔ ادھر سے مکہ کے لوگ مقابلہ کو نکل آئے۔ آپؐ نے فرمایا: آپ سے لڑنے کیلئے نہیں آئے۔ آپ ہم کو اجازت دیں کہ بیت اللہ کا طواف کر کے چلے جائیں۔ اس پر بڑا لمبا مباحثہ ہوا۔ آخر یہ قرار پایا کہ ایک عہد نامہ لکھا جائے۔ دو فہرستیں تیار ہوں۔ ایک میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ور ان قبیلوں کے نام ہوں جو اُ کے نام ہوں جو اُن کے ساتھ ہیں اور ایک طرف طرف مشرکین اور ان کے ہمراہی قبیلوں کے نام ہوں۔ دوم یہ کہ اس سال آپ واپس تشریف لے جائیں اور ترجيع: خوش الحانی سے پڑھتے ہوئے آواز گھمانا اور الفاظ کو دہرانا۔ (المفردات في غريب القرآن - رجع) (هدى السارى مقدمة فتح البارى، الفصل الخامس فى سياق الألفاظ الغريبة، الحديبية، صفحه ۱۴۹) (معجم البلدان للحموي، باب الحاء والدال - الحديبية) (الدر المنثور، سورة الفتح آیت ۲۷ : لقد صدق الله ، جزءے صفحہ ۵۳۸) ( فتح الباری جزء صفحہ ۵۴۸)