صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 79
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۷۹ ۶۵ - كتاب التفسير / الفتح میں بویا جائے گا، پھر وہ پیچ آہستہ آہستہ اگنا شروع ہوگا اور اُس کی بیچ کی شکل نہیں رہے گی بلکہ روئید روئیدگی کی شکل ہو جائے گی، ہو جائے گی، اس کے بعد ترقی کا دوسرا دور آئے گا جسے خدا تعالیٰ نے ازرہ کے لفظ میں بیان فرمایا ہے کہ اس وقت وہ پودا مضبوط ہو جائے گا اور اجرائے شریعت عملی طور پر کر دیا جائے گا، پھر تیسر ا دور اس وقت آئے گا جب استغلظ کی پیشگوئی پوری ہو گی یعنی وہ کمزور پودا موٹا ہو جائے گا اور وہی تحریک جو پہلے معمولی نظر آتی تھی اور دنیا کے تھوڑے حصہ پر حاوی تھی تمام دنیا پر حاوی ہو جائے گی اور لوگ جوں جوں احمدی بنتے چلے جائیں گے وہ تعلیم بھی سب عالم میں پھیلتی چلی جائے گی۔ گویا استغلظ میں انتشار فی العالم کی پیشگوئی کی گئی ہے اور پھر چوتھا دور اس وقت آئے گا جب فاستَوى عَلَى سُوقِہ کا نظارہ نظر آنے لگ جائے گا یعنی اسلامی بادشاہتیں قائم ہو جائیں گی اور وہ تھوڑے سے اسلامی مسائل جو خالص اسلامی حکومت سے تعلق رکھتے ہیں وہ بھی عملی رنگ میں جاری ہو جائیں گے اور تمام دنیا کا ایک ہی تمدن ہو گا اور ایک ہی تہذیب۔ یہ فَاسْتَوَى عَلَى سُوقِہ کے الفاظ ایسے ہی ہیں جیسے اللہ تعالیٰ کے متعلق قرآن کریم میں آتا ہے کہ اُس نے عرش پر استویٰ کیا۔“ انقلاب حقیقی، انوار العلوم جلد ۵ صفحه ۹۶٬۹۵) باب ۱ : إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا (الفتح : ٢) ہم نے تم کو ایک کھلی کھلی فتح بخشی ہے ٤٨٣٣ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ۴۸۳۳: عبد اللہ بن مسلمہ ( قعنبی) نے ہم سے عَنْ مَالِكٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ بیان کیا کہ انہوں نے مالک سے ، مالک نے زید بن أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسلم سے، زید نے اپنے باپ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اسلام اپنے کسی سفر میں رات کو جا رہے تھے اور حضرت عمر بن خطاب بھی آپ کے ساتھ بْنُ الْخَطَّابِ يَسِيرُ مَعَهُ لَيْلًا فَسَأَلَهُ ہی جارہے تھے۔ حضرت عمر بن خطاب نے کسی عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَنْ شَيْءٍ فَلَمْ يُجِبْهُ بِات کے متعلق آپ سے پوچھا۔ رسول اللہ صلی علی ام رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ نے آپ کو جواب نہ دیا۔ پھر انہوں نے آپ سے كَانَ يَسِيرُ فِي بَعْضٍ أَسْفَارِهِ وَعُمَرُ