صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 78
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۷۸ ۶۵ - كتاب التفسير / الفتح أَجْرًا عَظِيمًا (الفتح : ۳۰) محمد اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کفار کے خلاف بڑا جوش رکھتے ہیں، لیکن آپس میں ایک دوسرے سے بہت ملاطفت کرنے والے ہیں جب تو انہیں دیکھے گا انہیں شرک سے پاک اور اللہ کا مطیع پائے گا۔ وہ اللہ کے فضل اور رضا کی جستجو میں رہتے ہیں، ان کی شناخت ان کے چہروں پر سجدوں کے نشان کے ذریعہ موجود ہے۔ یہ ان کی حالت تورات میں بیان ہوئی ہے اور انجیل میں ان کی حالت یوں بیان ہے کہ وہ ایک کھیتی کی طرح ہوں گے) جس نے پہلے تو اپنی روئیدگی نکالی۔ پھر اس کو (آسمانی اور زمینی غذا کے ذریعہ سے ) مضبوط کیا اور وہ روئیدگی اور مضبوط ہو گئی۔ پھر اپنی جڑ پر مضبوطی سے قائم ہو گئی یہانتک کہ زمیندار کو پسند آنے لگ گئی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ کفار ان کو دیکھ دیکھ کر جلیں گے۔ اللہ نے مومنوں اور ایمان کے مطابق عمل کرنے والوں سے یہ وعدہ کیا ہے کہ ان کو مغفرت اور بڑا اجر ملے گا۔ حضرت مصلح موع موعود رضی اللہ عنہ اس آیت کریمہ کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اس آیت میں اس پیشگوئی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو متی باب ۱۳ آیت ۳ تا ۹ میں ان الفاظ میں بیان ہوئی ہے کہ ایک بونے والا بیج بونے نکلا اور ہوتے وقت کچھ دانے راہ کے کنارے گرے۔ اور پرندوں نے آکر انہیں چگ لیا اور کچھ پتھریلی زمین پر گرے۔ جہاں ان کو بہت مٹی نہ ملی اور گہری مٹی نہ ملنے کے سبب سے جلد اگ آئے اور جب سورج نکلا تو جل گئے اور جڑھ نہ ہونے کے سبب سے سوکھ گئے اور کچھ جھاڑیوں میں گرے اور جھاڑیوں نے بڑھ کر ان کو دبا لیا اور کچھ اچھی زمین میں گرے اور پھل لائے۔ کچھ سو گنا، کچھ ساٹھ گنا، کچھ تیس گنا۔ “ قرآن مجید کی اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ امت محمدیہ میں آنے والے مسیح کی قوم بھی ایسی ہی ہو گی، جیسے اچھی زمین میں بویا ہو ا دانہ۔ اور اللہ تعالیٰ اس میں ایسی برکت پیدا کرے گا کہ ایک ایک دانہ سے ساٹھ ساٹھ ستر ستر بلکہ سو سو گنا پیدا ہو گا۔ مگر یہ فوراً نہیں ہو گا بلکہ تدریج کے ساتھ ہو گا۔“ (تفسیر صغیر، سورة الفتح ، حاشیه آیت ۳۰) پھر اس آیت کریمہ میں مذکور پیشگوئی کی مزید وضاحت کرتے ہوئے ایک موقع پر آپ نے فرمایا: مسیح موعود کے زمانہ میں انقلاب کے چار دور ہوں گے۔ اول اخرجَ شَطْعہ یعنی اصول بیان کئے جائیں گے اور اس وقت ایسی ہی حالت ہو گی جیسے بیج زمین میں سے اپنا سر نکالتا ہے اور وہ حالت نہیں ہو گی جو اسلام کے پہلے دور میں تھی۔ اور جسے اللہ تعالیٰ نے یوں بیان فرمایا ہے کہ آئی اَمرُ اللهِ (النحل: (۲) یا آتَى اللهُ بُنْيَانَهُمُ (النحل: ۲۷) بلکہ وہاں ترتیب ہوگی اور تدریجی ترقی ہو گی۔ پہلے ایمان کا ایک پیچ ہو گا جو قلوب کی زمین