صحیح بخاری (جلد یازدہم)

Page 89 of 260

صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 89

صحيح البخاری جلد ۸۹ ۲۵ کتاب التفسير / النور لَيْلَتَيْنِ وَيَوْمًا لَا أَكْتَحِلُ بِنَوْمٍ وَلَا ایک دن رو چکی مجھے نیند نہ آئی اور نہ میرے آنسو يَرْقَأُ لِي دَمْعٌ يَظُنَّانِ أَنَّ الْبُكَاءَ تھے تو ماں باپ سمجھنے لگے کہ یہ رونا میرا جگر پارہ پارہ فَالِقٌ كَبِدِي۔قَالَتْ فَبَيْنَمَا هُمَا کر دے گا۔کہتی تھیں: اسی اثنا میں کہ دونوں جَالِسَانِ عِنْدِي وَأَنَا أَبْكِي فَاسْتَأْذَنَتْ میرے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور میں رورہی تھی کہ اتنے میں ایک انصاری عورت نے میرے پاس عَلَيَّ امْرَأَةٌ مِّنَ الْأَنْصَارِ فَأَذِنْتُ اندر آنے کی اجازت مانگی میں نے اجازت دی لَهَا فَجَلَسَتْ تَبْكِي مَعِي قَالَتْ وہ بھی آکر بیٹھ گئی میرے ساتھ رونے لگی۔کہتی فَبَيْنَا نَحْنُ عَلَى ذَلِكَ دَخَلَ عَلَيْنَا تھیں: ہم اسی حالت میں تھے کہ رسول اللہ صلی الیکم رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ہمارے پاس آئے اور السلام علیکم کہہ کر بیٹھ گئے۔فَسَلَّمَ ثُمَّ جَلَسَ قَالَتْ وَلَمْ يَجْلِس کہتی تھیں کہ جب سے کہ افترا کیا گیا اس سے پہلے عِنْدِي مُنْذُ قِيلَ مَا قِيلَ قَبْلَهَا وَقَدْ آپ میرے پاس نہ بیٹھے تھے اور آپ ایک مہینہ تک منتظر رہے مگر میری نسبت کوئی وحی آپ کو نہ لَبِثَ شَهْرًا لَا يُوحَى إِلَيْهِ فِي شَأْنِي ہوئی۔کہتی تھیں : جب رسول اللہ صلی ا تم بیٹھ گئے تو قَالَتْ فَتَشَهَّدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ آپ نے کلمہ شہادت پڑھا اور فرمایا: اما بعد عائشہ ! عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ جَلَسَ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بات یہ ہے کہ تمہاری نسبت مجھے ایسی ایسی بات بَعْدُ يَا عَائِشَةُ فَإِنَّهُ قَدْ بَلَغَنِي عَنْكِ پہنچی ہے۔سو اگر تم بری ہو تو عنقریب اللہ تمہیں كَذَا وَكَذَا فَإِنْ كُنْتِ بَرِيئَةً فَسَيُبَرِّتُكِ ضرور بری کر دے گا اور اگر تم نے کوئی گناہ کر لیا اللَّهُ وَإِنْ كُنْتِ أَلْمَمْتِ بِذَنْبِ ہے تو پھر اللہ سے مغفرت طلب کرو اور اسی کی فَاسْتَغْفِرِي اللَّهَ وَتُوبِي إِلَيْهِ فَإِنَّ الْعَبْدَ طرف رجوع کرو۔کیونکہ جب بندہ اپنے گناہ کا اقرار کرتا ہے اور اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو إِذَا اعْتَرَفَ بِذَنْبِهِ ثُمَّ تَابَ إِلَى اللَّهِ اللہ اس پر رحم کرتا ہے۔کہتی تھیں: جب رسول اللہ تَابَ اللهُ عَلَيْهِ قَالَتْ فَلَمَّا قَضَى على العالم یہ بات ختم کر چکے تو میرے آنسو یک دم صلی یہ رَسُولُ اللهِ مَقَالَتَهُ قَلَصَ دَمْعِي حَتَّى رُک گئے۔ایسے رُکے کہ میں آنسو کا ایک قطرہ بھی مَا أُحِسُّ مِنْهُ قَطْرَةً فَقُلْتُ لِأَبِي محسوس نہ کرتی تھی۔میں نے اپنے باپ سے کہا: