صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 88
صحیح البخاری جلد AA ۲۵ کتاب التفسير / النور سَعْدُ بْنُ مُعَاذِ الْأَنْصَارِيُّ فَقَالَ يَا یا رسول اللہ ! میں اس شخص سے نپٹوں گا۔اگر وہ قبیلہ رَسُولَ اللهِ أَنَا أَعْذُرُكَ مِنْهُ إِنْ كَانَ اوس میں سے ہوا تو میں اس کی گردن اڑا دوں گا مِنَ الْأَوْسِ ضَرَبْتُ عُنُقَهُ وَإِنْ كَانَ اور اگر وہ ہمارے بھائیوں یعنی خزرج سے ہوا تو پھر جو آپ حکم دیں گے ہم آپ کا حکم بجالائیں گے۔مِنْ إِخْوَانِنَا مِنَ الْخَزْرَحِ أَمَرْتَنَا کہتی تھیں : یہ سن کر حضرت سعد بن عبادہ کھڑے فَفَعَلْنَا أَمْرَكَ۔قَالَتْ فَقَامَ سَعْدُ بْنُ ہوئے اور وہ قبیلہ خزرج کے سردار تھے، اس سے عُبَادَةَ وَهُوَ سَيِّدُ الْخَزْرَجِ وَكَانَ قَبْلَ پہلے اچھے بھلے آدمی تھے مگر قومی غیرت نے ان کو ذَلِكَ رَجُلًا صَالِحًا وَلَكِنِ احْتَمَلَتْهُ اکسایا اور سعد سے کہا: تم نے جھوٹ کہا ہے۔بخدا الْحَمِيَّةُ فَقَالَ لِسَعْدِ كَذَبْتَ لَعَمْرُ تم اس کو نہیں مارو گے اور نہ اس کے مارنے کی اللهِ لَا تَقْتُلُهُ وَلَا تَقْدِرُ عَلَى قَبْلِهِ۔تمہیں طاقت ہے۔اس پر حضرت اُسید بن حضیر اُٹھے اور وہ حضرت سعد بن معاذ کے چازاد بھائی فَقَامَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ وَهُوَ ابْنُ عَمِ تھے حضرت سعد بن عبادہ سے کہنے لگے : تم نے سَعْدِ بْنِ مُعَادٍ فَقَالَ لِسَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ جھوٹ کہا ہے۔اللہ کی قسم ہم اسے ضرور مار ڈالیں كَذَبْتَ لَعَمْرُ اللَّهِ لَنَقْتُلَنَّهُ فَإِنَّكَ گے۔تم بھی منافق ہو جو منافقوں کی طرف سے مُنَافِقٌ تُجَادِلُ عَنِ الْمُنَافِقِينَ۔فَتَشَاوَرَ جھگڑ رہے ہو۔اس پر دونوں قبیلے اوس اور خزرج الْحَيَّانِ الْأَوْسُ وَالْخَزْرَجُ حَتَّى هَمُّوا ایک دوسرے کے برخلاف بھڑک اُٹھے اور یہاں أَنْ يَقْتَتِلُوا وَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ تک نوبت پہنچ گئی کہ وہ ایک دوسرے سے لڑنے کے لئے آمادہ ہو گئے بحالیکہ رسول اللہ صل اللہ تم ابھی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ عَلَى الْمِنْبَرِ فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ منبر پر ہی کھڑے تھے آپ اُن کا جوش دباتے رہے جس پر آخر وہ خاموش ہو گئے اور آپ بھی خاموش يُخَفِّضُهُمْ حَتَّى سَكَتُوا وَسَكَتَ۔ہوئے۔حضرت عائشہ فرماتی تھیں: میں اس دن قَالَتْ فَمَكَفْتُ يَوْمِي ذَلِكَ لَا يَرْقَاُ بھی اس حالت میں رہی میرے آنسو نہ تھمتے تھے لِي دَمْعٌ وَلَا أَكْتَحِلُ بِنَوْمٍ قَالَتْ اور نہ مجھے نیند آتی تھی۔کہتی تھیں : میرے والدین فَأَصْبَحَ أَبَوَايَ عِنْدِي وَقَدْ بَكَيْتُ میرے پاس ہی تھے اور جب میں دو راتیں اور