صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 87
صحيح البخاری جلد AZ ۶۵ کتاب التفسير / النور وَمَا نَعْلَمُ إِلَّا خَيْرًا وَأَمَّا عَلِيُّ بْنُ تنگی نہیں رکھی، عائشہ کے سوا اور بہت سی عورتیں أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللهِ لَمْ ہیں اور اگر آپ اس لونڈی (بریرہ) سے پوچھیں يُضَيِّقِ اللَّهُ عَلَيْكَ وَالنِّسَاءُ سِوَاهَا گے تو وہ آپ سے سچ سچ کہے گی۔کہتی تھیں: چنانچہ كَثِيرٌ وَإِنْ تَسْأَلِ الْجَارِيَةَ تَصْدُقَكَ رسول اللہ صلی الیکم نے بریرہ کو بلایا اور فرمایا: بریرہ قَالَتْ فَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله کیا تو نے کوئی ایسی بات دیکھی ہے جو تمہیں شبہ میں ڈالتی ہو۔بریرہ نے کہا: ہرگز نہیں۔اس ذات کی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَرِيرَةَ فَقَالَ أَيْ بَرِيرَةُ قسم ہے جس نے آپ کو راستی کے ساتھ بھیجا ہے هَلْ رَأَيْتِ مِنْ شَيْءٍ يَرِيبُكِ قَالَتْ میں نے اس کے برخلاف کبھی کوئی ایسی بات نہیں بَرِيرَةُ لَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنْ دیکھی جسے میں نے عیب کی بات سمجھی ہو۔ہاں وہ رَأَيْتُ عَلَيْهَا أَمْرًا أَغْمِصُهُ عَلَيْهَا کمسن لڑکی ہے اپنے گھر والوں کا آٹا چھوڑ کر سو جاتی أَكْثَرَ مِنْ أَنَّهَا جَارِيَةٌ حَدِيثَةُ السِّنِّ ہے اور گھر کی بکری آتی ہے اور اس کو کھا جاتی ہے۔تَنَامُ عَنْ عَجِينِ أَهْلِهَا فَتَأْتِي الدَّاجِنُ یہ سن کر رسول اللہ صلی للی کم کھڑے ہوئے اور عبد اللہ فَتَأْكُلُهُ۔فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله بن أبي بن سلول سے اپنی معذوری کا اظہار فرمایا۔عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَعْذَرَ يَوْمَئِذٍ مِنْ رسول الله صل العلیم نے فرمایا اور اس وقت آپ منبر عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيَ ابْنِ سَلُولَ فَقَالَ پر تھے اے مسلمانوں کی جماعت! کون اس شخص رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے میرا انصاف کرے گا، جس نے میری بیوی کی نسبت مجھے سخت تکلیف دی ہے۔اللہ کی قسم! میں وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ اپنی بیوی کی نسبت سوائے بھلائی کے اور کوئی علم مَنْ يَعْذِرُنِي مِنْ رَجُلٍ قَدْ بَلَغَنِي أَذَاهُ نہیں رکھتا اور ان لوگوں نے ایک ایسے شخص کا نام فِي أَهْلِ بَيْتِي فَوَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ عَلَى لیا ہے جس کے بارے میں بھی میں سوائے بھلائی أَهْلِي إِلَّا خَيْرًا وَلَقَدْ ذَكَرُوا رَجُلًا کے اور کچھ نہیں جانتا اور وہ میری بیوی کے پاس مَا عَلِمْتُ عَلَيْهِ إِلَّا خَيْرًا وَمَا كَانَ میری موجودگی میں ہی آیا کرتا تھا۔حضرت سعد يَدْخُلُ عَلَى أَهْلِي إِلَّا مَعِي فَقَامَ بن معاذ انصاری کھڑے ہوئے اور اُنہوں نے کہا: