صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 86
صحيح البخاری جلد AY ۲۵ کتاب التفسير / النور قَالَتْ وَأَنَا حِينَئِذٍ أُريدُ أَنْ أَسْتَيْقِنَ :کہا: آپ مجھے اجازت دیتے ہیں کہ میں اپنے ماں الْخَبَرَ مِنْ قِبَلِهِمَا قَالَتْ فَأَذِنَ لِي باپ کے پاس چلی جاؤں۔کہتی تھیں کہ میں اس رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وقت یہ چاہتی تھی کہ ان کے پاس جا کر اس خبر کی نسبت یقینی علم حاصل کروں۔کہتی تھیں: رسول اللہ فَجِئْتُ أَبَوَيَّ فَقُلْتُ لِأُمِّي يَا أُمَّتَاهُ علی ایم نے مجھے اجازت دی اور میں اپنے ماں باپ مَا يَتَحَدَّثُ النَّاسُ قَالَتْ يَا بُنَيَّةُ کے پاس آگئی۔میں نے ماں سے کہا: ماں لوگ کیا هَوِنِي عَلَيْكِ فَوَاللَّهِ لَقَلَّمَا كَانَتِ باتیں کرتے ہیں۔بولیں: بیٹی! اسے معمولی بات امْرَأَةً قَطُّ وَضِيئَةٌ عِنْدَ رَجُلٍ يُحِبُّهَا سمجھ پرواہ نہ کرو۔بخدا ک ہی ایسا ہوا ہے کہ کبھی کوئی خوبصورت عورت کسی شخص کے پاس ہو جس سے وہ محبت رکھتا ہو اُس کی سوکنیں بھی ہوں کہ وہ اس کے وَلَهَا ضَرَائِرُ إِلَّا أَكْثَرْنَ عَلَيْهَا۔قَالَتْ فَقُلْتُ سُبْحَانَ اللَّهِ أَوَلَقَدْ تَحَدَّثَ خلاف بہت باتیں نہ بنائیں۔کہتی تھیں: میں نے (یہ النَّاسُ بِهَذَا قَالَتْ فَبَكَيْتُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ سن کر) کہا: سبحان اللہ تعجب ہے کہ لوگ ایسی باتیں حَتَّى أَصْبَحْتُ لَا يَرْقَةُ لِي دَمْعٌ وَلَا کرتے رہے ہیں۔کہتی تھیں: میں اس رات روتی أَكْتَحِلُ بِنَوْمٍ حَتَّى أَصْبَحْتُ أَبْكِي رہی یہاں تک کہ صبح ہو گئی نہ میرے آنسو تھمتے اور نہ مجھے نیند آتی۔صبح بھی روتی رہی۔پھر رسول اللہ رَضِيَ فَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صلى الم نے جب وحی کے اترنے میں دیر ہوئی تو علی عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَأُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ بن ابی طالب اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہا کو بلایا تا اللهُ عَنْهُمَا حِينَ اسْتَلْبَثَ الْوَحْيُ اُن سے اپنی بیوی سے علیحدگی کے بارے میں مشورہ يَسْتَأْمِرُهُمَا فِي فِرَاقِ أَهْلِهِ۔قَالَتْ کریں کہتی تھیں: اسامہ بن زید نے تو رسول اللہ فَأَمَّا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدِ فَأَشَارَ عَلَى سلیم کو وہ مشورہ دیا جو انہیں آپ کی بیوی کی رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طہارت و براءت کے متعلق علم تھا اور جو اس محبت کا تقاضا تھا جو اُنہیں ابو بکر کے خاندان سے تھی، وہ الله بِالَّذِي يَعْلَمُ مِنْ بَرَاءَةِ أَهْلِهِ کہنے لگے : یارسول اللہ ! (عائشہ) آپ کی بیوی ہیں وَبِالَّذِي يَعْلَمُ لَهُمْ فِي نَفْسِهِ مِنَ اور سوائے بھلائی کے ہمیں اور کچھ علم نہیں اور علی الْوُدِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللهِ أَهْلَكَ بن ابی طالب بولے : یارسول اللہ ! آپ پر اللہ نے