صحیح بخاری (جلد یازدہم)

Page 85 of 260

صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 85

صحیح البخاری جلد ۸۵ ۶۵ - كتاب التفسير / النور قِبَلَ الْمَنَاصِعِ وَهُوَ مُتَبَرَّزُنَا وَكُنَّا لَا تو باہر گئی میرے ساتھ مسطح کی ماں بھی گئی، مناصع نَخْرُجُ إِلَّا لَيْلًا إِلَى لَيْلٍ وَذَلِكَ قَبْلَ کی طرف گئے۔ یہ ہمارے بول بر از کرنے کی جگہ تھی اور ہم صرف رات ہی کو باہر (جنگل میں ) جایا أَنْ تُتَّخَذَ الْكُنُفُ قَرِيبًا مِنْ بُيُوتِنَا یا اور ہم رات ہی باہر کرتی تھیں، پیشتر اس کے کہ ہمارے گھروں کے وَأَمْرُنَا أَمْرُ الْعَرَبِ الْأَوَّلِ فِي التَّبَرُّزِ قریب بیت الخلاء بنائے جاتے۔ اور اس وقت قِبَلَ الْغَائِطِ فَكُنَّا نَتَأَذَى بِالْكُنُفِ تک بول براز کرنے کے لئے ہمارا وہی رواج تھا جو أَنْ نَتَّخِذَهَا عِنْدَ بُيُوتِنَا فَانْطَلَقْتُ پہلے عربوں کا تھا اور بیوت الخلاء سے ہمیں گھن أَنَا وَأُمُّ مِسْطَحٍ وَهِيَ ابْنَةُ أَبِي رُهُم محسوس ہوتی تھی کہ اپنے گھروں میں وہ بنائیں۔ میں اور مسطح کی ماں باہر چلی گئیں اور یہ ابو رحم بن بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ وَأُمُّهَا بِنْتُ صَخْرِ بْنِ عبد مناف کی بیٹی تھیں اور ان کی ماں صخر بن عامر عَامِرٍ خَالَةُ أَبِي بَكْرِ الصِّدِّيقِ وَابْنُهَا کی بیٹی جو حضرت ابو بکر صدیق کی خالہ تھی اور اُن مِسْطَحُ بْنُ أَثَاثَةَ فَأَقْبَلْتُ أَنَا وَأُمُّ كا بيا مسطح بن اثاثہ تھا۔ میں اور مسطح کی ماں اپنے گھر مِسْطَحٍ قِبَلَ بَيْتِي وَقَدْ فَرَغْنَا مِنْ کی طرف آرہی تھیں ہم اپنی حاجت سے فارغ ہو شَأْنِنَا فَعَثَرَتْ أُمُّ مِسْطَحٍ فِي مِرْطِهَا گئی تھیں، اتنے میں مسلح کی ماں نے اپنی اوڑھ اوڑھنی میں الجھ کر ٹھو کر کھائی، بولیں مسطح کا ستیا ناس ہو۔ میں نے اس سے کہا: کیا ہی بُرا کلمہ ہے جو تم نے کہا بِئْسَ مَا قُلْتِ أَتَسْبِينَ رَجُلًا شَهِدَ ہے۔ کیا تم اس شخص کو برا کہتی ہو جو بدر میں شریک بَدْرًا قَالَتْ أَيْ هَنْتَاهُ أَوَلَمْ تَسْمَعِي ہوا تھا۔ کہنے لگیں: اری بھولی بھالی ! کیا تو نے نہیں مَا قَالَ قَالَتْ قُلْتُ وَمَا قَالَ فَأَخْبَرَتْنِي سنا جو اس نے کہا ہے ؟ حضرت عائشہ فرماتی تھیں: بِقَوْلِ أَهْلِ الْإِفْكِ فَازْدَدْتُ مَرَضًا میں نے پوچھا: اس نے کیا کہا ہے؟ پھر مسلح کی ماں فَقَالَتْ تَعِسَ مِسْطَحْ۔ فَقُلْتُ لَهَا نے مجھے بہتان والوں کی بات بتائی۔ میں بیمار عَلَى مَرَضِي۔ فَلَمَّا رَجَعْتُ إِلَى بَيْتِي تھی اس پر اور زیادہ پیار ہو تھی اس پر اور زیادہ بیمار ہوگئی۔ جب میں اپنے گھر من وَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الله کو لوٹی اور رسول اللہ صلی اللہ میرے پاس دم ایسے آئے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعْنِي سَلَّمَ ثُمَّ قَالَ كَيْفَ جیسا آتے تھے۔ حضرت عائشہ کی مراد یہ تھی کہ تِيكُمْ فَقُلْتُ أَتَأْذَنُ لِي أَنْ آتِيَ أَبَوَيْ آپ نے سلام کیا اور پوچھا: یہ کیسی ہے؟ میں نے