صحیح بخاری (جلد یازدہم)

Page 84 of 260

صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 84

صحیح البخاری جلد ۸۴ ۶۵ - كتاب التفسير / النور الْحِجَابِ فَاسْتَيْقَظْتُ بِاسْتِرْجَاعِهِ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْن پڑھا، جس سے میں حِينَ عَرَفَنِي فَخَمَّرْتُ وَجْهِي بِجِلْبَابِي جاگ پڑی تو میں نے اپنی جلباب (اوپر کی چادر ) وَاللَّهِ مَا كَلَّمَنِي كَلِمَةً وَلَا سَمِعْتُ سے اپنا منہ ڈھانپ لیا۔ اللہ کی قسم! اس نے مجھ سے کوئی بات نہیں کی اور نہ میں نے اس سے کوئی مِنْهُ كَلِمَةً غَيْرَ اسْتِرْجَاعِهِ حَتَّى أَنَاخَ بات سنی سوائے اِنَّا لِلَّهِ پڑھنے کے ۔ اس نے آکر رَاحِلَتَهُ فَوَطِئَ عَلَى يَدَيْهَا فَرَكِبْتُهَا اپنی اونٹنی بٹھائی اور اس کے اگلے گھٹنے پر اپنا پاؤں فَانْطَلَقَ يَقُودُ بِي الرَّاحِلَةَ حَتَّى أَتَيْنَا رکھا اور میں اس پر سوار ہو گئی۔ مجھے سوار کر کے الْجَيْشَ بَعْدَمَا نَزَلُوا مُوغِرِينَ فِي نَحْرِ اونٹنی کو آگے سے پکڑ کر چل پڑا۔ یہاں تک کہ ہم الظَّهِيرَةِ فَهَلَكَ مَنْ هَلَكَ وَكَانَ الَّذِي لشکر میں ٹھیک دوپہر کے وقت پہنچے جبکہ گرمی کی تَوَلَّى الْإِفْكَ عَبْدَ اللهِ بْنَ أُبَيِّ ابْنَ شدت کی وجہ سے وہ اترے ہوئے تھے۔ پھر ہلاک سَلُولَ فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ فَاشْتَكَيْتُ ہو گیا جس نے ہلاک ہونا تھا اور جو شخص اس بہتان کا بانی مبانی ہوا، وہ عبد اللہ بن اُبی بن سلول تھا۔ حِينَ قَدِمْتُ شَهْرًا وَالنَّاسُ يُفِيضُونَ فِي قَوْلِ أَصْحَابِ الْإِفْكِ وَلَا أَشْعُرُ بیمار رہی۔ اور لوگ بہتان طرازوں کے بہتان کی بِشَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ وَهُوَ يَرِيبُنِي فِي نسبت چہ مگوئیاں کرتے رہے۔ مجھے اس کا کچھ بھی وَجَعِي أَنِّي لَا أَعْرِفُ مِنْ رَسُولِ اللهِ علم نہ تھا۔ اور میری بیماری میں جو بات مجھے پریشان صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّطَفَ الَّذِي کرتی تھی یہ تھی کہ میں رسول اللہ صلی علیکم ندسی علوم سے وہ ہم مدینہ میں آئے اور میں تو آنے پر ایک مہینہ صا الله سر ھ سے كُنتُ أَرَى مِنْهُ حِينَ أَشْتَكِي إِنَّمَا شفقت محسوس نہ کرتی تھی جو شفقت آپ مجھ يَدْخُلُ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ فرمایا کرتے تھے، جب میں بیمار ہوتی۔ رسول اللہ صلی اللہ یہ میرے پاس صرف یونہی آیا کرتے تھے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُسَلِّمُ ثُمَّ يَقُولُ كَيْفَ اور السلام علیکم کہہ کر پوچھتے یہ کیسی ہے ؟ اور پھر تِيكُمْ ثُمَّ يَنْصَرِفُ فَذَاكَ الَّذِي يَرِيبُنِي لوٹ جاتے۔ یہ بات تھی جو یہ بات تھی جو مجھے تشویش میں ڈالتی وَلَا أَشْعُرُ بِالشَّرِّ حَتَّى خَرَجْتُ بَعْدَ اور میں اس شر کو نہ سمجھتی تھی۔ آخر جب مجھے مَا نَقَهْتُ فَخَرَجَتْ مَعِي أُمُّ مِسْطَحٍ بیماری سے افاقہ ہوا اور حالتِ نقاہت ہی میں تھی