صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 81
صحیح البخاری جلد M ۶۵ - كتاب التفسير / النور اس بہتان کے بارے میں تفصیل خود حضرت عائشہ کی زبان سے اگلے باب میں مذکور ہے۔ یہاں جس بات کا ذکر کرنا ضروری ہے وہ یہ کہ حضرت علیؓ کی طرف بھی (بعض کمزور روایتوں میں ) منسوب کیا گیا ہے کہ انہوں نے اس بہتان میں حصہ لیا تھا۔ یہ روایتیں اس زمانے کی ہیں جب بنی امیہ کے خاندان کا حضرت علی کی خلافت کے زمانے میں اختلاف شروع ہو گیا تھا تو عبد الملک بن مروان کے حامیوں نے حضرت علیؓ کو بد نام کرنے کے لئے اس قسم کی روایات گھڑیں۔ باب ٦ : وَلَوْلَا إِذْ سَمِعْتُمُوهُ قُلْتُمْ مَّا يَكُونُ لَنَا أَنْ تَتَكَلَّمَ بِهَذَا سبِّحْنَكَ هُذَا بُهْتَانٌ عَظِيمٌ (النور: ١٧) اور کیوں نہیں تم نے کہا جب تم نے یہ بات سنی تھی ہمیں زیبا نہیں کہ ہم اس کے متعلق کوئی بات کہیں پاک ذات ہے تو (اے اللہ) یہ بہت ہی بڑا بہتان ہے لَوْ لَا جَاءُهُ عَلَيْهِ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاء کیوں نہیں وہ اس بات پر چار گواہ لائے۔ اگر وہ گواہ فَإِذْ لَمْ يَأْتُوا بِالشُّهَدَاءِ فَأُولَئِكَ عِنْدَ نہ لائیں تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہی جھوٹے ہیں۔ اللهِ هُمُ الْكَذِبُونَ (النور: ١٤) ٤٧٥٠ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ۴۷۵۰: يحي بن بگیر نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ يُونُسَ عَنِ ابْنِ ليث بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یونس شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ (بن یزید) سے، انہوں نے ابن شہاب سے روایت وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ وَعَلْقَمَةُ بْنُ کی کہ اُنہوں نے کہا: مجھے عروہ بن زبیر، سعید بن مسیب، علقمه بن و قاص اور عبید اللہ بن عبد اللہ بن وَقَاصِ وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عتبہ بن مسعود نے نبی صلی السلام کی زوجہ حضرت عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ حَدِيثِ عائشہ رضی اللہ عنہا کے واقعہ کی بابت بتایا۔ جب عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ بہتان طرازوں نے اُن کے متعلق جو کہا، کہا اور اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَالَ لَهَا نے ان کو اس بہتان سے بری قرار دیا جو اُنہوں أَهْلُ الْإِفْكِ مَا قَالُوا فَبَرَّأَهَا الله نے باندھا تھا۔ ان میں سے ہر ایک نے اس واقعہ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق اس باب کا عنوان " لَوْلَا إِذْ سَمِعْتُمُوهُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَتُ بِأَنفُسِهِم خَيْرًا إِلَى قَوْلِهِ الْكَذِبُونَ“ ہے۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۵۷۴)