صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 80
صحیح البخاری جلد ۸۰ ۶۵ - كتاب التفسير / النور تشريح ۔ وَالْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصُّدِقِينَ : زیر باب واقعہ طبرانی نے بھی ابو بکر بن صدقہ سے نقل کیا ہے جو مقدم بن محمد کے واسطے سے مروی ہے جس کی سند معنعن ہے۔ کتاب الطلاق باب اللعان میں یہ مضمون مفصل مذکور ہے۔ بَاب ه : إِنَّ الَّذِينَ جَاءُو بِالْا فُكِ عُصْبَةٌ مِنْكُمْ لَا تَحْسَبُوهُ شَرًّا لَكُمْ بَلْ هُوَ خَيْرٌ لَكُمْ لِكُلِّ امْرِئٍ مِنْهُمْ مَا اكْتَسَبَ مِنَ الْإِثْمِ وَالَّذِي تَوَلَّى كِبْرَهُ مِنْهُمْ لَهُ عَذَابٌ عَظِيمٌ ( النور : ١٢) (اللہ تعالیٰ کا فرمانا:) جن لوگوں نے بہتان طرازی کا ارتکاب کیا ہے وہ تم میں سے ایک ٹولی ہے۔ اسے تم اپنے لئے شر نہ سمجھو، بلکہ تمہارے لئے بہتر ہے۔ بہتان لگانے والوں میں سے ہر شخص کو اس کے گناہ کا بدلہ ملے گا جو اس نے کمایا ہے اور وہ شخص جس نے ان میں سے اس بہتان میں بڑا أَفَاكِ كَذَّابٌ۔ حصہ لیا ہے اسے بہت بڑا عذاب ہو گا۔ افاک کے معنی ہیں بکثرت جھوٹ بولنے والا۔ ٤٧٤٩ : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا ۴۷۴۹: ابو نعیم نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان سُفْيَانُ عَنْ مَّعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے معمر سے، معمر عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا نے زہری سے، زہری نے عروہ سے، عروہ نے وَالَّذِي تَوَلَّى كبرَهُ ( النور : ۱۲) قَالَتْ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ وہ بیان فرماتی تھیں: جس شخص نے اس بہتان طرازی میں عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيَ ابْنُ سَلُولَ۔ بڑا حصہ لیا تھا وہ عبد اللہ بن اُبی بن سلول تھا۔ أطرافه: ٢٥٩٣ ، ٢٦٣٧ ، ٢٦٦١ ، ۲٦٨٨ ، ۲۸۷۹، ٤٠٢٥، ٤١٤١ ، ٤٦٩٠، ٤٧٥٠، ٤٧٥٧، ٥٢١٢، ٦٦٦٢، ٦٦٧٩ ، ٧٣٦٩، ۷۳۷۰ ، ٧٥۰۰ ، ٧٥٤٥۔ 6 تشريح : إِنَّ الَّذِينَ جَاءُو بِالْإِفْكِ عُصْبَةٌ مِنْكُمْ : عنوانِ باب میں جس آیت کا حوالہ دیا گیا ہے : إِنَّ الَّذِينَ جَاءُو بِالْإِفْكِ عُصْبَةٌ مِنْكُمْ لَا تَحْسَبُوهُ شَرًّا لَكُمْ بَلْ هُوَ خَيْرٌ لَكُمْ ہے وہ یہ ہے : لِكُلِّ امْرِى مِنْهُمْ مَا اكْتَسَبَ مِنَ الْإِثْمِ وَالَّذِي تَوَلَّى كِبْرَهُ مِنْهُمْ لَهُ عَذَابٌ عَظِيمٌ (النور:(۱۲) یعنی جن لوگوں نے بہتان طرازی کا ارتکاب کیا ہے وہ تم میں سے ایک ٹولی ہے اسے تم اپنے لئے شر نہ سمجھو بلکہ تمہارے لئے بہتر ہے۔ بہتان لگانے والوں میں سے ہر شخص کو اس کے گناہ کا بدلہ ملے گا جو اس نے کمایا ہے اور وہ شخص جس نے اُن میں سے اس بہتان میں بڑا حصہ لیا ہے اُسے بہت بڑا عذاب ہوگا۔