صحیح بخاری (جلد یازدہم)

Page 77 of 260

صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 77

صحيح البخاری جلد ۲۵ کتاب التفسير / النور جائز نہیں۔کسی کے بارے میں قتل کا فیصلہ حکومت کا کام ہے جو شہادتوں کے بعد ہی ہو سکتا ہے۔شہادت کی عدم موجودگی میں لعان کا طریق فریقین کے لئے شریعت اسلام میں جاری کیا گیا ہے۔اس بارے میں صریح حکم سورۃ النور میں موجود ہے جس کا حوالہ دونوں ابواب کی آیات میں دیا گیا ہے۔محولہ بالا آیات اور احادیث مندرجہ سے واضح ہے کہ ملاعنہ کے بعد وہ سزا عائد نہیں ہو گی جس کا ذکر سورۃ النور کی آیت نمبر ۵ میں کیا گیا ہے یعنی بغیر شہادت کسی عورت کی عفت پر جھوٹا الزام لگانے والوں کو اسی ڈرے لگائے جائیں گے۔اس حکم کے ذریعے سے عورت کی عزت جو بڑی قیمتی شے ہے محفوظ کی گئی ہے۔یہ سختی اس لئے برقی گئی ہے کہ لوگ ایسے الزامات عائد کرنے میں دلیر ہیں۔محض ظن اور قیاس کی بناء پر الزام لگانے میں جلدی کرتے ہیں۔باب ۳ الله ويدر وا عَنْهَا الْعَذَابَ أَنْ تَشْهَدَ أَرْبَعَ شَهَدَتٍ بِاللهِ إِنَّهُ لَمِنَ الْكَذِبِينَ (النور: ٩) ( اللہ تعالیٰ کا فرمانا: ) اور اس عورت سے سزا کو یہ بات دور کر دے گی کہ وہ اللہ کی قسم کھا کر چار بار شہادت دے کہ یقینا وہ شخص دروغ گو لوگوں میں سے ہے ٤٧٤٧ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ :۴۷۴۷: محمد بن بشار نے مجھ سے بیان کیا کہ ( محمد ) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِي عَنْ هِشَامِ بْنِ بن ابی عدی نے ہمیں بتایا۔اُنہوں نے ہشام بن حَسَّانَ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ حسان سے روایت کی کہ عکرمہ نے ہمیں بتایا۔أَنَّ هِلَالَ بْنَ أُمَيَّةَ قَذَفَ امْرَأَتَهُ عِنْدَ حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ ہلال بن النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَرِيكِ امیہ نے نبی کریم صلی ایم کے پاس اپنی بیوی پر ابْنِ سَحْمَاءَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الله شریک بن سحماء سے بدکاری کرنے کی تہمت عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيِّنَةَ أَوْ حَدٌ فِي ظَهْرِكَ۔پیٹھ پر کوڑے لگیں گے۔یہ سن کر اُس نے کہا: فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذَا رَأَى أَحَدُنَا یا رسول اللہ ! اگر ہم میں سے کوئی اپنی بیوی کے عَلَى امْرَأَتِهِ رَجُلًا يَنْطَلِقُ يَلْتَمِسُ پاس غیر مرد کو دیکھے تو کیا وہ گواہ ڈھونڈنے چلا الْبَيِّنَةَ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ جائے ؟ نبی صلی اور یہی فرماتے رہے: شہادت لاؤ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْبَيِّنَةَ وَإِلَّا حَدٌ فِي ورنہ تمہاری پیٹھ پر کوڑے لگیں گے۔ہلال نے ظَهْرِكَ۔فَقَالَ هِلَالٌ وَالَّذِي بَعَثَكَ کہا: اس ذات کی قسم ہے جس نے آپ کو سچائی بِالْحَقِّ إِنِّي لَصَادِقٌ فَلَيُنْزِلَنَّ الله کے ساتھ بھیجا ہے میں یقینا سچا ہوں اور اللہ ضرور لگائی۔نبی صلیا ولم نے فرمایا: ثبوت لاؤ ورنہ تمہاری