صحیح بخاری (جلد یازدہم)

Page 76 of 260

صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 76

صحیح البخاری جلد ۷۶ ۶۵ - كتاب التفسير / النور ضا الله عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى زہری سے، زہری نے حضرت سہل بن سعد سے رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ روایت کی کہ ایک شخص رسول اللہ صلی علیم کے فَقَالَ يَا رَسُولَ اللهِ أَرَأَيْتَ رَجُلًا رَأَى پاس آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ ! بھلا بتائیں کہ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ ایک شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو كَيْفَ يَفْعَلُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ فِيهِمَا مَا دیکھے تو کیا وہ اسے مار ڈالے اور پھر آپ لوگ اللهية قاتل کو مار ڈالیں گے یا وہ کیا کرے۔ چنانچہ اللہ ذُكِرَ فِي الْقُرْآنِ مِنَ التَّلَاعُنِ۔ فَقَالَ نے ان دونوں کی نسبت وحی نازل کی جو قرآن لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ میں مذکور ہے یعنی لعان کرنے کی۔ رسول اللہ قَدْ قُضِيَ فِيكَ وَفِي امْرَأَتِكَ۔ قَالَ عَلی اسلام نے اسے فرمایا: تمہارے اور تمہاری بیوی فَتَلَاعَنَا وَأَنَا شَاهِدٌ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ کے بارے میں فیصلہ ہو چکا ہے۔ حضرت سہل صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفَارَقَهَا کہتے تھے: ان دونوں نے لعان کیا اور میں اس فَكَانَتْ سُنَّةً أَنْ يُفَرَّقَ بَيْنَ وقت رسول اللہ صلی الی ایم کے پاس موجود تھا اور پھر وہ اس عورت سے الگ ہو گیا۔ اس کے بعد الْمُتَلَاعِنَيْنِ۔ وَكَانَتْ حَامِلًا فَأَنْكَرَ یہی طریق ہو گیا کہ لعان کرنے والوں کو ایک حَمْلَهَا وَكَانَ ابْنُهَا يُدْعَى إِلَيْهَا۔ ثُمَّ دوسرے سے الگ کر دیا جاتا۔ اور وہ حاملہ تھی۔ جَرَتِ السُّنَّةُ فِي الْمِيرَاثِ أَنْ يَرِثَهَا اس شخص نے اس کے حمل سے انکار کر دیا (کہ وَتَرِثَ مِنْهُ مَا فَرَضَ اللَّهُ لَهَا ۔ یہ میرا نہیں) اور اس عورت کا بیٹا اپنی ماں کی طرف منسوب کیا جاتا تھا۔ پھر وراثت میں بھی یہی طریق جاری ہوا کہ بچہ ماں کا وارث ہوتا اور ماں اس کی جائیداد سے اتنے حصے کی وراث ہوتی جو اللہ نے اس کے لئے مقرر کیا ہے۔ أطرافه: ٤٢٣، ٤٧٤٥ ، ۵۲۵۹، ۵۳۰۸، ٥۳۰۹، ٦٨٥٤ ، ٧١٦٥، ٧١٦٦ ، ٧٣٠٤۔ تشريح : وَالْخَامِسَةُ أَنَّ لَعْنَتَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ الْكَذِبِينَ : عویمر کی روایت پہلے باب میں مفصل اور دوسرے میں مختصر ہے۔ یہ روایت کتاب الطلاق روایت نمبر ۰۸ ۵۳۰۸ میں بھی آئے گی۔ خاوند اپنی عورت پر زنا کا الزام لگائے اور سوا اس کے کوئی اور شہادت نہ ہو تو خاوند کے لئے عورت کا قتل کرنا