صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 78
صحیح البخاری جلد ۷۸ ۶۵ - كتاب التفسير / النور مَا يُبَرِّئُ ظَهْرِي مِنَ الْحَدِّ ۔ فَنَزَلَ ایسی وحی نازل کرے گا جو میری پیٹھ کو اس سزا جِبْرِيلُ وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ وَالَّذِينَ يَرْمُونَ سے بری کر دے گی۔ پھر جبرائیل آئے اور أَزْوَاجَهُمْ فَقَرَأَ حَتَّى بَلَغَ إِنْ كَانَ مِنْ آپ پر یہ آیات نازل کیں: وَ الَّذِينَ يَرْمُونَ الصَّدِقِينَ ( النور : ٧-١٠) فَانْصَرَفَ أَزْوَاجَهُمْ ۔۔ اور قراءت کرتے ہوئے إِن كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلَ مِنَ الصُّدقین تک پہنچے۔ اس کے بعد نبی کریم إِلَيْهَا فَجَاءَ هِلَالٌ فَشَهِدَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ س علیہ صل الام لوٹے اور اس عورت کو بلوا بھیجا اور ہلال بھی آگئے اور انہوں نے قسم کھا کر شہادت دی اور نبی کریم صلی علیکم فرماتے رہے کہ اللہ خوب جانتا يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ فَهَلْ مِنْكُمَا ہے کہ تم میں سے ایک جھوٹا ہے۔ تو کیا تم میں سے تَائِبٌ ثُمَّ قَامَتْ فَشَهِدَتْ فَلَمَّا كَانَتْ کوئی ( اپنی غلطی سے توبہ کرتا ہے۔ پھر وہ اٹھی اور عِنْدَ الْخَامِسَةِ وَقَفُوهَا وَقَالُوا إِنَّهَا اس نے قسم کھا کر شہادت دی۔ جب وہ پانچویں مُوجِبَةٌ۔ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَتَلَكَأَتْ قسم کھانے لگی تو لوگوں نے اس کو ٹھہرایا اور کہنے وَنَكَصَتْ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهَا تَرْجِعُ ثُمَّ لگے: دیکھو یہ قسم یقینا تجھے عذاب میں مبتلا کرے قَالَتْ لَا أَفْضَحُ قَوْمِي سَائِرَ الْيَوْمِ گی ۔ حضرت ابن عباس کہتے تھے: اس پر وہ جھجکی فَمَضَتْ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ اور رُک گئی اور ہم سمجھے کہ وہ اپنی بات میں پلٹے وَسَلَّمَ أَبْصِرُوهَا فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَكْحَلَ گی۔ پھر اس نے خیال کیا کہ میں اپنی قوم کو ہمیشہ الْعَيْنَيْنِ سَابِعَ الْأَلْيَتَيْنِ خَدَلَّجَ کے لئے رسوا نہیں کروں گی اور یہ خیال کر کے السَّاقَيْنِ فَهُوَ لِشَرِيكِ ابْنِ سَحْمَاءَ اس نے پانچویں قسم بھی کھالی۔ نبی علی سلیم نے فَجَاءَتْ بِهِ كَذَلِكَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى فرمایا: اسے دیکھتے رہو اگر یہ ایسا بچہ جنے جو سرنگیں آنکھوں والا، پر گوشت بھرے سرین والا اور موٹی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا مَا مَضَى مِنْ پنڈلیوں والا ہو تو وہ شریک بن سحماء کا ہے۔ چنانچہ كِتَابِ اللَّهِ لَكَانَ لِي وَلَهَا شَأْنٌ۔ اس نے ایسا ہی بچہ جنا۔ نبی کریم صلی علیہ سلم نے فرمایا: أطرافه: ٢٦٧١، ٥٣٠٧ اللہ کی شریعت کا جو حکم ہے اگر وہ نہ ہو چکا ہوتا تو پھر میں اس سے ایسا سلوک کرتا کہ وہ یاد کرتی۔