صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 73
صحيح البخاری جلد ۲۵ کتاب التفسير / النور اپنے موقع پر آئے گا۔اس تعلق میں یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ صرف عورت پر ہی پابندی عائد نہیں کی گئی بلکہ مرد کے لئے بھی پابندی عائد کی گئی ہے کہ اگر اسے اپنے دائرہ عمل سے نکل کر عورت کے دائرہ عمل میں جانے کی ضرورت ہو تو اسے اجازت طلب کرنی چاہیے اور بغیر اجازت کسی کے گھر مت داخل ہو اور غض بصر کے حکم کے لئے وہ بھی مامور ہے۔اس کے علاوہ اور بھی پابندیاں ہیں جن کا ذکر اپنے موقع پر آئے گا۔بغیر اجازت کسی کے گھر میں داخل ہونے کے بارہ میں اسی جگہ فرماتا ہے: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتًا غَيْرَ بُيُوتِكُمْ حَتَّى تَسْتَانِسُوا وَ تُسَلِّمُوا عَلَى أَهْلِهَا ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ ، فَإِن لَّمْ تَجِدُوا فِيهَا أَحَدًا ja حملون عليم فَلَا تَدْخُلُوهَا حَتَّى يُؤْذَنَ لَكُمْ ۚ وَ إِنْ قِيلَ لَكُمُ ارْجِعُوا فَارْجِعُوا هُوَ أَزْكَى لَكُمْ وَاللَّهُ بِمَا 0 (النور: ۲۸، ۲۹) یعنی اے وے جو مومن ہو! اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں داخل نہ ہو تا وقتیکہ تمہیں انس محسوس نہ ہو اور اجازت نہ لے لو اور ان گھر والوں کے لئے سلامتی کی دعا کرو یہ بات تمہارے لئے بہتر ہے تا کہ تم نصیحت حاصل کرو۔اگر ان میں کوئی نہ پاؤ تو مت داخل ہو جب تک تمہیں اجازت نہ دی جائے اور اگر تمہیں کہا جائے کہ لوٹ جاؤ تو لوٹ جاؤ۔یہ بات تمہارے لئے زیادہ پاکیزہ ہے۔اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو خوب جانتا ہے۔غَيْرِ أُولي الإربة۔۔۔شعبی کا قول ہے کہ غَيْرِ أُولي الإربة سے مراد وہ ہیں جو عورتوں کی خواہش سے محروم ہوں۔یہ پردے کے متعلق تیسری استثناء ہے۔یعنی عورتوں کے لئے ایسے لوگوں سے بھی پردہ ضروری نہیں ہے جو شہوت جنسی سے کلی طور پر محروم ہیں۔اس حصہ آیت کی شرح مجاہد نے اِن الفاظ سے کی ہے: لَا يُهِمُّهُ إِلَّا بَطْنُهُ جنہیں پیٹ کے دھندے کے سوا اور کوئی خواہش نہیں۔اس تعلق میں طاؤس کا قول ہے کہ اس سے مراد ابلہ ہیں جنہیں عورتوں کی خواہش ہی نہیں ہوتی۔شعبی کا قول طبری سے بسند مغیرہ، طاؤس کا قول عبد الرزاق سے بسند معمر اور مجاہد کا قول طبری سے بسند ابن ابی بیج موصولاً نقل کیا گیا ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه ۵۶۹) (عمدۃ القاری جزء ۱۹ صفحه ۷۳) باب ۱ : وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُن لَّهُمْ شُهَدَاءُ إِلَّا أَنْفُسُهُم فَشَهَادَةُ أَحَدِهِمْ أَرْبَعُ شَهْدَتٍ بِاللهِ إِنَّهُ لَمِنَ الصُّدِقِينَ ( النور :٧) اللہ تعالیٰ کا فرمانا: ) اور وہ لوگ جو اپنی بیویوں پر تہمت لگاتے ہیں اور ان کے پاس کوئی گواہ نہیں سوائے اپنے آپ کے تو ان میں سے ایک کی شہادت (اس طرح ہو گی اللہ کو گواہ ٹھہر اکر وہ چار دفعہ قسم کھائے گا کہ وہ اپنے بیان میں یقینا راستبازوں میں سے ہے۔٤٧٤٥ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ حَدَّثَنَا ۴۷۴۵: اسحاق بن منصور ) نے ہم سے بیان مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفَرْيَابِيُّ حَدَّثَنَا کیا کہ محمد بن یوسف فریابی نے ہمیں بتایا، (کہا:)