صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 72
صحيح البخاری جلد ۶۵ - كتاب التفسير / النور حصہ حدود میں رہ کر متناسب و معتدل صورت اختیار کر سکتی ہے۔اس لئے اسلام کی پہلی ہدایت میں مرد و عورت کی نقل و حرکت کا حلقہ متعین کیا گیا ہے اور یہ حکم دیا ہے کہ جب مرد و عورت اپنے اپنے حلقے سے باہر دوسرے حلقے میں جائیں تو دونوں غض بصر سے کام لیں۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس اسلامی اصطلاح کی شرح بیان کی ہے۔یہ قطعاً غلط ہے کہ اسلام الا مَا ظَهَر کی پابندی سے معاشرہ کے ایک کارآمد وجود کو عضو معطل کی طرح رکھنا چاہتا ہے۔مذکورہ بالا آیت جو بالتفصیل عورت کے حلقہ کی وسعت بیان کرتی ہے وہ بنیادی حکم ہے اور اس حلقے سے باہر جانے کی اگر ضرورت ہو تو غض بصر کا حکم دے کر الا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ ( النور :۳۲) کا حکم بطور استثناء ہے اور اسی حکم میں اس کی وجہ دو لفظوں میں بیان کی گئی ہے۔وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ ( النور : ۳۲) عورتیں جب اپنے دائرہ عمل سے باہر جائیں تو وہ اپنی زینت کو نمایاں نہ کریں کیونکہ یہ نمائش شہوت جنسی کو ابھارنے کا طبعی محرک ہے، جس کی اسلام اجازت نہیں دیتا۔معترضین نے اصل اور مفصل ارشادِ باری تعالیٰ جو اصل اور اہم ہے نظر انداز کر کے بے جا اعتراض کیا ہے کہ اسلام عورت کو قید و بند میں جکڑتا ہے بحالیکہ استثنائی حکم میں بھی جو پابندی عائد کی ہے وہ نہایت ہی محدود ہے اور عورت کے لئے اپنے مخصوص دائرہ زندگی سے باہر کی فضا میں بھی نقل و حرکت کی آزادی دی گئی ہے۔وہ کھیتی باڑی میں اپنے خاوند اور قریبی رشتہ داروں کے ساتھ شریک عمل ہو سکتی ہے۔مویشیوں کی پاسبانی کر سکتی ہے اور بازار سے سودا سلف لا سکتی ہے۔یہاں تک کہ میدان جنگ میں بھی جو خالص مردوں کا دائرہ عمل ہے اس میں بھی شریک ہو کر زخمیوں کی مرہم پٹی کر سکتی ہے۔جیسا کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا حضرت عائشہ اور دیگر صحابیات نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور اپنے اقرباء کی مرہم پٹی کی اور عورت اپنے بیماروں کا علاج معالجہ اور تیمار داری کر سکتی ہے۔یہاں تک کہ دوران حج مردوں کے ساتھ طواف اور تمام ارکان حج پوری آزادی سے کرنے کی مجاز ہے اور اس اثناء میں حجاب کی پابندی میں تخفیف کی گئی ہے۔(کتاب الحج باب ۶۴ روایت نمبر ۱۶۱۸) اور فی الواقع مسلم خاتون غض بصر اور پر دے کا مخصوص حکم عملاً ملحوظ رکھتے ہوئے تمام ضروری کام کاج کرتی رہی ہے۔واقعات سے اگر آنکھیں موند کر اعتراض کرنا ہی ہو تو اس کا کیا علاج ؟ ہاں اعتراض کرنے والے اپنے اپنے معاشرے کی نا گفتہ بہ حالت سے عبرت حاصل کریں۔حقائق اور واقعات کے پیش نظر یہ سوال قطعا پیدا نہیں ہوتا کہ کسی وقت پر دے کے حکم کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔لوگ فرشتے یا ہیجڑے ہو جائیں گے۔فرشتوں یا ہیجڑوں کے لئے بھی غیرِ أُولِي الْإِرْبَةِ (النور: ۳۲) کی استثناء اسی آیت میں موجود ہے کہ ایسے لوگوں سے بھی پر وہ نہ کیا جائے جو شہوت جنسی سے محروم ہیں۔غرض قرآن مجید کی مذکورہ بالا آیت اپنی تفصیلات میں کامل و مکمل ہے۔رہا غیر قوموں کی تقلید اعمی کا شوق اور اس شوق میں اندھادھند بہہ جانا، سو مسلمانوں کے لئے افسوس ہے۔یہ بھی دجالی زمانے میں مقدر تھا اور اس کا ذکر ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : سوائے اس کے کہ جو اس میں سے از خود ظاہر ہو اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈال لیا کریں۔“