صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 71
صحيح البخاری جلد اک ۲۵ کتاب التفسير / النور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: اگر ہم ایک بھوکے کتے کے آگے نرم نرم روٹیاں رکھ دیں اور پھر اُمید رکھیں کہ اس کتے کے دل میں خیال تک ان روٹیوں کا نہ آوے تو ہم اپنے اس خیال میں غلطی پر ہیں۔سو خدا تعالیٰ نے چاہا کہ نفسانی قوی کو پوشیدہ کارروائیوں کا موقع بھی نہ ملے اور ایسی کوئی بھی تقریب پیش نہ آوے جس سے بد خطرات جنبش کر سکیں۔اسلامی پردہ کی یہی فلاسفی اور یہی ہدایت شرعی ہے۔خدا کی کتاب میں پردہ سے یہ مراد نہیں کہ فقط عورتوں کو قیدیوں کی طرح حراست میں رکھا جائے۔یہ ان نادانوں کا خیال ہے جن کو اسلامی طریقوں کی خبر نہیں۔بلکہ مقصود یہ ہے کہ عورت مرد دونوں کو آزاد نظر اندازی اور اپنی زینتوں کے دکھانے سے روکا جائے۔کیونکہ اس میں دونوں مرد اور عورت کی بھلائی ہے۔بالآخر یاد رہے کہ خوابیدہ نگاہ سے غیر محل پر نظر ڈالنے سے اپنے تئیں بچالینا اور دوسری جائز النظر چیزوں کو دیکھنا اس طریق کو عربی میں غض بصر کہتے ہیں اور ہر ایک پرہیز گار جو اپنے دل کو پاک رکھنا چاہتا ہے اس کو نہیں چاہیے کہ حیوانوں کی طرح جس طرف پا ہے بے محابا نظر اٹھا کر دیکھ لیا کرے بلکہ اس کے لئے اس تمدنی زندگی میں غض بصر کی عادت ڈالنا ضروری ہے اور یہ وہ مبارک عادت ہے جس سے اس کی یہ طبعی حالت ایک بھاری خلق کے رنگ میں آجائے گی اور اس کی تمدنی ضرورت میں بھی فرق نہیں پڑے گا۔یہی وہ خلق ہے جس کو احصان اور عفت کہتے ہیں۔“ اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۴۳، ۳۴۴) خدائے رحمن نے انسان کو جو طاقتیں اور شہوتیں عطا فرمائی ہیں وہ بے پناہ ہیں۔ان میں سے ہر ایک قوت و شہوت اپنے حدود سے تجاوز کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔بھوک کی شہوت کو دیکھ لیں اگر پیٹ کی چار دیواری محدود نہ ہوتی تو انسان کھاتا ہی چلا جاتا اور یہ شہوت جوع بس ہونے کو نہ آتی۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے كُلُوا وَاشْرَبُوا کے ساتھ وَلَا تُسْرِفُوا (الأعراف:۳۲) کا حکم دیا ہے کہ کھانے اور پینے میں حد سے تجاوز نہ کرو اور اس آیت کے ابتداء اور آخر میں اس کے بارے میں تناسب اور اعتدال ملحوظ رکھنے کو زینت قرار دیا ہے اور اس حکم کی فرمانبرداری کو اپنی محبت کے حصول کے موجبات میں سے شمار کیا ہے۔صفت رحمانیت کا یہ سلوک بے پایاں صرف بھوک اور پیاس اور اشیاء خوردنی سے ہی محدود نہیں بلکہ تمام شہوات و قواء پر شامل و عام ہے۔شہوت جنسی کا بھی یہی حال ہے اور پابندی عائد کرنے سے ہی وہ اپنی