صحیح بخاری (جلد یازدہم)

Page 70 of 260

صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 70

صحیح البخاری جلد -۲۵ کتاب التفسير / النور وَقَالَ فَرَضْنَهَا: فَرَّضَ راء مشددہ سے ہے یعنی ہم نے اس میں فرائض نازل کئے ہیں اور اگر یہ لفظ راء مخففہ سے پڑھا جائے تو اس کے معنی ہیں کہ ہم نے تم پر اور ان لوگوں پر جو بعد میں ہوں گے یہ سورۃ فرض کی ہے۔فراء کے نزدیک تشدید کے ساتھ اس لفظ کی قراءت عمدہ ہے۔ابو عبیدہ نے کہا کہ فَرَضْتُھا کے معنی ہیں کہ ہم نے حلال و حرام کی حدود بیان کر دی ہیں اور اس سے فریضہ مشتق ہے جس کی جمع فرائض ہے یعنی ضروری واجب العمل احکام۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه ۵۶۹) اَوِ الطِفْلِ الَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُوا: یعنی اور وہ بچے جو عورت کے خاص تعلقات سے بے خبر ہیں۔سورۃ النور آیت نمبر ۳۲ میں غض بصر ، نگاہیں نیچی رکھنے ، پاکدامن رہنے ، زیب وزینت کے عدم اظہار ، سینے اور چہرے اوڑھنیوں سے ڈھانکنے ، برہنگی کی نگہداشت اور غیر مردوں سے پردہ کرنے کا حکم مومن عورتوں کو دیا گیا ہے اور اس حکم کے تعلق میں بعض قریبی رشتہ داروں کا استثناء کیا گیا ہے جن میں نابالغ بچے بھی شامل ہیں اور اس آیت میں معاشرے کی ان حدود کا ذکر ہے جن کے اندر رہتے ہوئے عورت آزاد ہے اور اسے اجازت ہے کہ مذکورہ رشتہ داروں کے ساتھ اختلاط کرے۔اس حکم کی شرح کے لیے دیکھئے اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۴۴،۳۴۳ زیر عنوان پاکدامن رہنے کے لیے پانچ علاج۔مذکورہ بالا آیت میں الا مَا ظَهَرَ مِنْهَا سے ایک اور استثناء کا ذکر کیا گیا ہے۔جسم کے وہ کونسے حصے ہیں جن سے متعلق پردہ کا حکم عائد نہیں ہو تا۔ہاتھ ، پاؤں، آنکھیں اور قد و قامت کا تناسب ، چال ڈھال۔قدو قامت کی موزونیت میں اور طریق رفتار میں بھی ایک قسم کی رعنائی ہوتی ہے جو چھپائی نہیں جاسکتی۔یہ سب باتیں الا مَا ظَهَرَ میں شامل ہیں۔سورۃ النور آیت نمبر ۳۲ جو پردہ سے متعلق ہے اس میں آٹھ قسم کے رشتہ دار نام بنام شمار کئے گئے ہیں جن سے پردہ نہیں اور ا اور ان کے علاوہ دوسرے مردوں میں سے تین اور طبقہ کے اشخاص چھوٹے بڑے شمار کئے گئے ہیں اور شریف غیر رشتہ دار عور تیں بھی اسی طبقہ میں شامل ہیں جن کی نسبت پردے کی پابندی نہیں۔جیسا کہ الفاظ آؤ نیسا بھن سے پایا جاتا ہے کہ ایسی عورتوں سے بھی پر وہ کیا جائے گا جو اپنے طبقے کی نہ ہوں اور جن کے ساتھ میل جول کرنے سے گزند پہنچنے کا اندیشہ ہے۔قرآن مجید کی مذکورۃ الصدر تشریح سے معاشرہ میں عورت کی نقل و حرکت کا حلقہ کافی وسعت رکھتا ہے کہ جس میں اسے پر وہ نہ کرنے کی آزادی دی گئی ہے اپنے اس حلقے سے باہر عورت کے لئے غیر مردوں سے بے روک ٹوک آزادانہ اختلاط کی کیا ضرورت باقی رہ جاتی ہے سوا اس کے کہ عیش و عشرت سے لطف اندوزی مقصود ہو۔جس سے اسلام نے روکا ہے اور اس بارے میں کچھ پابندیاں عائد کی ہیں۔شہوت جنسی کا جذبہ انسان میں طبعا نہایت قوی اور شدید ہے کہ اس کی موجودگی میں اگر کوئی سمجھتا ہو کہ مرد و عورت کا آزادانہ خلا ملا اور ایک دوسرے کو پاک نظر سے دیکھنا نقصان دہ نہیں اور ان دونوں پر کسی قسم کی پابندی عائد کرنے کی ضرورت نہیں تو وہ غلطی خوردہ ہے۔آج کل کی متمدن دنیا میں آزادانہ خلاملا کی وجہ سے جو افسوسناک نتائج بے راہ روی کے مشاہدے میں ہیں ان سے آسانی سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اپنے متعلق یہ خوش فہمی محض فریب نفس ہے۔