صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 69
۶۹ -۲۵ - كتاب التفسير / النور صحيح البخاری جلد امام بخاری نے لفظ سُورت کے معنی ابو عبیدہ سے مَقْطُوعَةٌ بیان کئے ہیں یعنی سابقہ سورۃ سے منقطع، الگ تھلگ۔بتایا جا چکا ہے کہ اس سے ماقبل پانچ سورتیں بلحاظ مضمون مسلسل ہیں اور یہ سورۃ اپنے مضمون کے لحاظ سے ان سورتوں سے علیحدہ ہے۔سورتیں جب ایک دوسری سے ملیں تو وہ قرآن ہیں۔آیات إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَ فَإِذَا قَرَ آنَهُ فاتبع قُرآن سورۃ القیامۃ کی آیات نمبر ۱۹۱۸ ہیں۔یہاں ان آیات کا حوالہ اس غرض سے دیا گیا ہے کہ بتایا جائے کہ لفظ قرآن کے معنی ہی جمع شدہ ہیں۔لفظ قرآن کی شرح سے ظاہر ہے کہ قرآن مجید اپنی موجودہ ترتیب و شکل میں حضرت عثمان کی تالیف نہیں بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ ہی میں قرآن مجید مع تسلسل آیات و ترتیب سُور وحی الہی کے ذریعے سے مکمل ہو چکا تھا۔حضرت عثمان نے مصحف کی شکل میں لکھوایا ہے۔فرضتها: اس میں فرائض بیان کیے ہیں۔یعنی ایسے احکام جن کی تعمیل ضروری ہے۔اس شرح سے عیاض کے قول کی تائید ہوتی ہے (فتح الباری جزء ۸ صفحه ۵۶۸) بلکہ سیاق کلام انزَلْنَهَا وَفَرَضْنَھا سے بھی یہی مفہوم واضح ہوتا ہے۔وَقَالَ سَعْدُ بْنُ عِيَاضٍ القُمَالِيُّ الْمِشْكَاةُ۔۔۔: سعد نے کہا کہ الْمشگاه حبشی زبان میں طاقچے کو کہتے ہیں جس میں چراغ رکھا جاتا ہے۔حبشی زبان سے تعلق ہونے کا کچھ ذکر سورۃ النساء کی تفسیر میں لفظ الجنت کی شرح میں گزر چکا ہے۔یہ سعد ثمالہ قبیلہ سے تھے اور کوفی تابعی ہیں۔صحیح بخاری میں ان کی یہی روایت ہے۔رومیوں کی ایک جنگ میں شریک ہو کر روم ہی میں شہید ہو گئے تھے رحمتہ اللہ علیہ - حضرت ابن عباس سے بھی الْمِشْكَاة کے معنی الكوة منقول ہیں یعنی طاقچہ۔امام بخاری کو اس لفظ کی تحقیق کی ضرورت اس لئے محسوس ہوئی ہے کہ بعض نے حضرت ابنِ عباس ہی سے مشکاۃ کے معنی چراغ کا وہ آخری کنارہ کیا ہے جہاں بنی ہوتی ہے اور جل کر روشنی دیتی ہے۔حضرت ابن عباس سے نقل کرنے والے طبری ہیں، جنہوں نے بسند علی بن ابی طلحہ مذکورہ بالا مفہوم نقل کیا ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۵۶۸) فَإِذَا قَرانَهُ: یعنی جب ہم اسے اکٹھا کر دیں اور ایک دوسرے کے ساتھ ترتیب دے دیں۔فاتیح قران (القیامۃ : 19) یعنی جو باتیں ہم نے اس میں جمع کر دی ہیں اُن کے مطابق عمل کر اور جن باتوں سے روکا ہے اُن سے رُک۔لفظ قران تالیف کے معنوں میں عربوں کے درمیان مستعمل تھا جس کی ایک مثال یہ دی ہے لَيْسَ لِشِعْرِهِ قرآن: اس کے شعروں میں تسلسل و ترتیب نہیں اور قَرَأَ بمعنی جَمَعَ ہے اس کا دوسرا حوالہ مَا قَرَأَتْ بِسَلًا قَطُّ ہے۔یعنی اس عورت نے اپنے رحم میں کوئی شے محفوظ نہیں رکھی یعنی اسقاط کر دیا۔یہ حوالے ابو عبیدہ سے مروی ہیں۔قرءَ کے تعلق میں انہوں نے شاعر کے اس مصرعے کا بھی حوالہ دیا ہے : هِجَانُ اللَّوْنِ لَمْ يَقْرَأْ جَنِينًا۔یعنی شاعر اپنی اصیل اونٹنی کی تعریف کرتا ہے کہ وہ سفید خوبصورت رنگ اور اصیل النسل ہے اور اس نے اپنے رحم میں کسی بچے کو محفوظ نہیں رکھا یعنی نر کے ملاپ سے محفوظ ہے۔غرض ابو عبیدہ کے نزدیک قران کا لفظ قراءت بمعنی تلاوت سے مشتق نہیں بلکہ قرہ سے ہے جس کے معنی جمع کرنے کے ہیں۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۵۶۹،۵۶۸) ل ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع: "یقیناً اس کا جمع کرنا اور اس کی تلاوت ہماری ذمہ داری ہے۔پس جب ہم اُسے پڑھ چکیں تو تو اس کی قراءت کی پیروی کر۔“