صحیح بخاری (جلد یازدہم)

Page 68 of 260

صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 68

صحيح البخاری جلد ۶۸ ۶۵- كتاب التفسير / النور ان کے درمیان اتصال پیدا کر دیتا ہے۔پھر ان کو تہہ بہ تہہ کرتا ہے اور تو بارش کے قطروں کو دیکھتا ہے کہ وہ بادل کے اندر سے ٹپکنے لگتے ہیں اور بادل ہی میں سے بڑے بڑے تو دے برف اور اولوں کے گراتا ہے اور جس کو چاہتا اسے پہنچا دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے اس سے روک لیتا ہے۔قریب ہوتا ہے کہ اس کی بجلی کی چمک آنکھوں کی بینائی کو ضائع کر دے۔سَنَا بَرقہ کے معنی ہیں بجلی کی چمک یا روشنی۔ابو عبیدہ کے نزدیک لفظ سنا آیت میں اگر الف مقصورہ سے ہے تو اس کے معنی روشنی اور چمک کے ہیں اور اگر الف ممدودہ سے ہے تو اس کے معنی ہیں حسب و نسب میں بلندی۔حضرت ابن عباس سے سنا کے معنی ضَوء (روشنی) مروی ہیں۔ضیاء الف محدودہ سے ابو عبیدہ نے معنی کئے ہیں اور قتادہ نے کہا مِنَا کے معنی ہیں لَمَعَانُ الْبَرْقِ یعنی بجلی کی چمک۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه ۵۶۷) مذْعِنِينَ: مُذْعِن کے معنی ہیں اطاعت کا اظہار کرنے والا، عاجزی سے دب جانے والا۔استخذاء ایسی اطاعت کو کہتے ہیں جس میں ذلت اور عاجزی کا مفہوم پایا جاتا ہو۔آیت کے سیاق کا بھی یہی مفہوم ہے فرماتا ہے: وَ إِذَا دُعُوا إِلَى اللهِ وَ رَسُولِهِ لِيَحْكُم بَيْنَهُمْ إِذَا فَرِيقٌ مِنْهُمْ مُعْرِضُونَ ، وَ إِنْ يَكُن لَّهُمُ الْحَقُّ يَأْتُوا إِلَيْهِ مُذعِنِينَ (النور: ۵۰،۴۹) یعنی اور جب وہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلائے جائیں تا اُن کے درمیان فیصلہ کرے تو ان میں سے ایک فریق روگردان ہے اور اگر انہیں کوئی حق ملنے والا ہو تو وہ فوراً اس کے لئے اظہار اطاعت کرتے ہوئے آجائیں گے۔طبری نے مجاہد سے مُذْعِنِينَ کے معنی سِرَاعًا ( جلدی سے ) نقل کئے ہیں۔زجاج نے بھی إِذْعَان کے معنى الْإِسْرَاعُ فِي الطَّاعَةِ کئے ہیں۔یعنی اطاعت میں جلدی کرنا۔( فتح الباری جزء ۸ صفحه ۵۶۸) دغن کے معنوں میں حرکت کرنے چلنے اور کوچ کرنے کا مفہوم پایا جاتا ہے۔- اَشْتَانَا، شَتَّى، شَبَاتٌ اور شَت ابو عبیدہ کے نزدیک ایک ہی ہیں۔اُن کے ماسوا دوسروں نے اشتاتا، شست کی جمع بتائی ہے۔کھانے پینے اور گھروں میں آنے جانے سے متعلق آداب کے ضمن میں فرماتا ہے : لَيْسَ عَلَيْكُم جُنَاحٌ أَنْ تَأْكُلُوا جَمِيعًا أَوْ أَشْتَاناً ( النور : ۶۲) یعنی تم پر کوئی گناہ نہیں کہ تم سب مل کر اکٹھے کھاؤ یا الگ الگ کھاؤ۔ہندوؤں میں الگ کھانے کا طریق ہے اور اُن میں چھوت چھات کا رواج ہے۔عرب لوگ بھی اندھے کے ساتھ کھانا معیوب سمجھتے تھے اور یہود بھی۔جیسا کہ امام رازی نے اپنی تفسیر میں بیان کیا ہے۔(التفسیر الکبیر، لامام الرازی، سورة النور، زیر آیت لَيْسَ عَلَى الأعلى حرج۔۔۔، جزء ۲۴ صفحه ۴۲۱،۴۲۰) سورۃ النور میں آداب معاشرہ اور تمدنی اُمور سے متعلق حقوق و واجبات بیان ہوئے ہیں اور اس میں بعض تعزیری احکام کا بھی ذکر ہے اس لئے الفاظ سُورَةُ انزلنھا سے آغاز ہوا ہے اور سیاق کلام کے اعتبار سے لفظ انزلتها سے مراد حضرت ابن عباس کے نزدیک بَيَّنَّاھا ہے۔یعنی اسے ہم نے بیان کیا ہے۔عیاض نے یہی مفہوم بیان کیا ہے جو اس آیت سے واضح ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۵۲۸) فرماتا ہے : سُورَةُ أَنْزَلْنَهَا وَفَرَضْهَا وَ أَنْزَلْنَا فِيهَا أَيْتِ بَيِّنَةٍ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ ) ( النور : ۲) یعنی یہ ایک ایسی سورۃ ہے جسے ہم نے نازل یعنی بیان کیا ہے اور اسے فرض کیا ہے اور اس میں اپنے احکام کھول کر بیان کئے تا کہ تم نصیحت حاصل کرو۔