صحیح بخاری (جلد یازدہم)

Page 67 of 260

صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 67

صحیح البخاری جلد ۶۷ ۶۵ - كتاب التفسير / النور فَرَّضْنَاهَا أَنْزَلْنَا فِيهَا فَرَائِضَ مُخْتَلِفَةً اس کے شعروں میں ایک دوسرے سے ربط وَمَنْ قَرَأَ فَرَضْتُهَا ( النور : (٢) يَقُولُ نہیں اور قرآن مجید کا نام فرقان بھی ہے اس لئے فَرَضْنَا عَلَيْكُمْ وَعَلَى مَنْ بَعْدَكُمْ کہ وہ حق و باطل کے درمیان فرق کرتا ہے اور قَالَ مُجَاهِدٌ أَوِ الطِفْلِ الَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُوا عورت کی نسبت کہتے ہیں : مَا قَرَأَتْ بِسَلًا قَطُّ۔ یعنی اس نے اپنے پیٹ میں بچہ کبھی سنبھال کر نہیں (النور : (۳۲) لَمْ يَدْرُوا لِمَا بِهِمْ مِنَ الصِّغَرِ۔ وَقَالَ الشَّعْبِيُّ غَيْرِ أولی رکھا اور کہا: یہ آیت یوں ہے : سُوْرَةُ انْزَلْنَهَا وَ) فَرَّضْنُهَا فَرَّضْتُهَا کی ”ر“ مشهد ”ر“ مشدد ہے) ہم نے الإربة ( النور : (٣٢) مَنْ لَيْسَ لَهُ أَرَبِّ۔ اس میں مختلف فرائض یعنی ضروری احکام بتائے وَقَالَ مُجَاهِدٌ لَا يُهِمُّهُ إِلَّا بَطْنُهُ وَلَا ہیں اور جس نے یہ آیت یوں پڑھی فَرَضْتُهَا (یعنی يُخَافُ عَلَى النِّسَاءِ۔ وَقَالَ طَاوُسٌ هُوَ «» مخففہ سے ) تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ الْأَحْمَقُ الَّذِي لَا حَاجَةَ لَهُ فِي النِّسَاءِ جسے ہم نے تجھ پر فرض کیا ہے اور اُن لوگوں پر 7 جو تیرے بعد ہیں۔ مجاہد نے کہا: او الطفْلِ الَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُوا یعنی ایسے بچے جو بوجہ اپنی کم سنی کے کچھ جانتے بوجھتے نہیں۔ اور شعبی نے کہا: غَيْرِ أولي الإربة سے مراد وہ لوگ ہیں جن کو عورتوں کی خواہش نہیں۔ مجاہد نے کہا اس سے وہ مراد ہیں جنہیں سوائے اپنے پیٹ کے کسی اور چیز کی فکر نہیں اور عورتوں کے بارے میں ان سے کوئی خوف نہ ہو۔ اور طاؤس نے کہا: وہ کم عقل جسے عورتوں کی کوئی ضرورت نہ ہو۔ تشریح : مِنْ خِلِہ کے معنی ہیں مِنْ بَيْنِ أَضْعَافِ السَّحَابِ یعنی بادل کی تہوں کے درمیان میں ہے۔ فرماتا ہے : أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللهَ يُزْجِي سَحَابًا ثُمَّ يُؤَلِّفُ بَيْنَهُ ثُمَّ يَجْعَلُهُ رُكَامًا فَتَرَى الْوَدْقَ يَخْرُجُ مِنْ خِلْلِهِ وَيُنَزِّلُ مِنَ السَّمَاءِ مِنْ جِبَالِ فِيهَا مِنْ بَرَدٍ فَيُصِيبُ بِهِ مَنْ يَشَاءُ وَيَصْرِفُهُ عَنْ مَنْ يَشَاءُ يَكَادُ سَنَا بَرْقِهِ يَذْهَبُ بِالْأَبْصَارِ ( النور : (۴۴) یعنی کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ بادلوں کو آہستہ آہستہ اٹھا کر لاتا۔ اٹھا کر لاتا ہے۔ پھر لفظ غير لفظ "غير " عمدة القاری کے مطابق ہے۔ (عمدۃ ا ہے۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۹ صفحہ ۷۳) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔