صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 67
صحيح البخاری جلد -۲۵ کتاب التفسير / النور فَرَضْنَاهَا أَنْزَلْنَا فِيهَا فَرَائِضَ مُخْتَلِفَةً اس کے شعروں میں ایک دوسرے سے ربط وَمَنْ قَرَأَ فَرَضْتُهَا ( النور : ٢) يَقُولُ نہیں اور قرآن مجید کا نام فرقان بھی ہے اس لئے فَرَضْنَا عَلَيْكُمْ وَعَلَى مَنْ بَعْدَكُمْ کہ وہ حق و باطل کے درمیان فرق کرتا ہے اور قَالَ مُجَاهِدٌ أَوِ الطفلِ الَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُوا عورت کی نسبت کہتے ہیں: مَا قَرَأَتْ بِسَلًا قَطُّ یعنی اس نے اپنے پیٹ میں بچہ کبھی سنبھال کر نہیں 99 ( النور : ٣٢) لَمْ يَدْرُوا لِمَا بِهِمْ مِنَ رکھا اور کہا : ( یہ آیت یوں ہے: سُوْرَةٌ أَنْزَلْنَهَا وَ) الصِّغَرِ۔وَقَالَ الشَّعْبِيُّ غَيْرِ أُولِي فَرَضْنَهَا- (فَوَّضْنُهَا کی ”ر“ مشدد ہے) ہم نے الإربة (النور : ۳۲) مَنْ لَيْسَ لَهُ أَرَبِّ اس میں مختلف فرائض یعنی ضروری احکام بتائے وَقَالَ مُجَاهِدٌ لَا يُهِمُّهُ إِلَّا بَطْنُهُ وَلَا ہیں اور جس نے یہ آیت یوں پڑھی فَرَضْنَهَا (یعنی يُخَافُ عَلَى النِّسَاءِ۔وَقَالَ طَاوُسٌ هُوَ « » مخففہ سے ) تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ الْأَحْمَقُ الَّذِي لَا حَاجَةَ لَهُ فِي النِّسَاءِ جسے ہم نے تجھ پر فرض کیا ہے اور اُن لوگوں پر :مریح 2 جو تیرے بعد ہیں۔مجاہد نے کہا: أَوِ الطِّفْلِ الَّذِينَ لَم يَظْهَرُوا یعنی ایسے بچے جو بوجہ اپنی کم سنی کے کچھ جانتے بوجھتے نہیں۔اور شعبی نے کہا: غَيْرِ أولي الإربة سے مراد وہ لوگ ہیں جن کو عورتوں کی خواہش نہیں۔مجاہد نے کہا اس سے وہ مراد ہیں جنہیں سوائے اپنے پیٹ کے کسی اور چیز کی فکر نہیں اور عورتوں کے بارے میں ان سے کوئی خوف نہ ہو۔اور طاؤس نے کہا: وہ کم عقل جسے عورتوں کی کوئی ضرورت نہ ہو۔مِن خِلالِہ کے معنی ہیں مِنْ بَيْنِ أَضْعَافِ السَّحَابِ یعنی بادل کی تہوں کے درمیان میں سے۔فرماتا ہے : اَلَم تَرَ انَّ اللهَ يُرجى سَحَابًا ثُمَّ يُوَلِفُ بَيْنَهُ ثُمَّ يَجْعَلْهُ رُكَامًا فَتَرَى الْوَدْقَ يَخْرُجُ مِنْ خِلْلِهِ وَيُنَزِّلُ مِنَ السَّمَاءِ مِنْ جِبَالِ فِيهَا مِنْ بَرَدٍ فَيُصِيبُ بِهِ مَنْ يَشَاءُ وَيَصْرِفُهُ عَنْ مَنْ يَشَاءُ يَكَادُ سَنَا بَرْقِهِ يَذْهَبُ بِالْاَبْصَارِه ( النور : ۴۴) یعنی کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ بادلوں کو آہستہ آہستہ اٹھا کر لاتا ہے۔پھر ا لفظ ”غَيْرِ " عمدۃ القاری کے مطابق ہے۔(عمدۃ القاری جزء ۱۹ صفحہ ۷۳) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔