صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 66
صحیح البخاری جلد ۶۶ ۶۵ - كتاب التفسير / النور ٢٤ - سُوْرَةُ النُّور مِنْ خِليه ( النور : ٤٤) مِنْ بَيْنِ أَضْعَافِ مِنْ خِلْلِهِ کے معنی ہیں بادل کی تہوں کے السَّحَابِ۔ سَنَا بَرْقِهِ (النور : ٤٤) وَهُوَ درمیان سے ۔ سنا برقہ یعنی اس کی بجلی کی روشنی الصِّيَاءُ ۔ مُذْعِنِينَ (النور : (٥٠) يُقَالُ اور وہ چمک ہے۔ مُذْعِنِينَ عجز و انکساری سے جھکے لِلْمُسْتَخْذِي مُذْعِنٌ اَشْتَاتًا (النور: ٦٢) رہنے والوں کو کہتے ہیں۔ اس کا مفرد مُذْعِنٌ وَشَتَّى وَشَتَاتٌ وَشَتْ وَاحِدٌ۔ وَقَالَ ہے۔ اَشْتَاتًا، شَتَّى، شَتَاتُ اور شَتْ کے معنی ابْنُ عَبَّاسٍ سُورَةُ اَنْزَلْنَهَا ( النور :(۲) ایک ہی ہیں یعنی الگ الگ۔ اور حضرت ابن عباس بَيَّنَّاهَا ۔ وَقَالَ غَيْرُهُ سُمِّيَ الْقُرْآنُ نے فرمایا: سُورَةُ انزلتھا یعنی یہ ایک سورۃ ہے جو لِجَمَاعَةِ السُّوَرِ وَسُمِّيَتِ السُّورَةُ ہم نے کھول کر بیان کی ہے۔ اور حضرت ابن لِأَنَّهَا مَقْطُوعَةٌ مِّنَ الْأُخْرَى فَلَمَّا عباس کے سوا اوروں نے کہا: قرآن کا نام قرآن قُرِنَ بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ سُمِّيَ قُرْآنًا۔ اس لئے ہے کہ وہ سورتوں کو اپنے اندر اکٹھا رکھتا ہے اور سورۃ اس لئے نام رکھا گیا ہے کہ وہ وَقَالَ سَعْدُ بْنُ عِيَاضِ الثَّمَالِيُّ الْمِشْكَاةُ الْكُوَّةُ بِلِسَانِ الْحَبَشَةِ دوسری سے الگ کی گئی ہے۔ جب اُن سورتوں کو ایک دوسرے سے اکٹھا کر دیا گیا تو اُن کا نام وَقَوْلُهُ تَعَالَى إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَ قرآن رکھا گیا۔ اور سعد بن عیاض شمالی نے اور قُرْآنَةً (القيامة : ١٨) تَأْلِيفُ بَعْضِهِ کہا: مِشْكَاة حبشی زبان میں طالب طاقچے کو کہتے ہیں إِلَى بَعْضٍ فَإِذَا قَرَانُهُ فَاتَّبِعُ قُرْآنَهُ اللہ تعالیٰ کا فرمانا: إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَ قُرْآنَهُ اس (القيامة : ١٩) فَإِذَا جَمَعْنَاهُ وَأَلَّفْنَاهُ سے مراد اس کے ایک حصے کو دوسرے حصے سے فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ أَيْ مَا جُمِعَ فِيهِ فَاعْمَلْ پیوستہ کرنا ہے۔ فَإِذَا قَرَانُهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ : جب بِمَا أَمَرَكَ وَانْتَهِ عَمَّا نَهَاكَ وَيُقَالُ ہم اس کو اکٹھا کر دیں اور اس کو ترتیب دے دیں لَيْسَ لِشِعْرِهِ قُرْآنٌ أَي تَأْلِيفٌ وَسُمِّيَ تو پھر اس مجموعہ کی پیروی کر۔ یعنی وہ باتیں بجالا، الْفُرْقَانَ لِأَنَّهُ يُفَرِّقُ بَيْنَ الْحَقِّ وَالْبَاطِلِ اس نے جن کے کرنے کا تجھے حکم د حکم دیا ہے اور ان وَيُقَالُ لِلْمَرْأَةِ مَا قَرَأَتْ بِسَلًا قَطُّ أَيْ باتوں سے رُک جا جن سے اس نے تجھے روکا ہے۔ لَمْ تَجْمَعْ فِي بَطْنِهَا وَلَدًا۔ وَقَالَ (عربی میں) کہتے ہیں: لَيْسَ لِشِعْرِهِ قُرْآنٌ یعنی