صحیح بخاری (جلد یازدہم)

Page 66 of 260

صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 66

صحيح البخاری جلد ۶۶ ٢٤ سُورَةُ النُّور -۲۵ کتاب التفسير / النور مِنْ خِلْلِه ( النور : ٤٤) مِنْ بَيْنِ أَضْعَافِ مِنْ خِلْلِهِ کے معنی ہیں بادل کی تہوں کے السَّحَابِ۔سَنَا بَرْقِه (النور : ٤٤) وَهُوَ درمیان سے۔سنا برقہ یعنی اس کی بجلی کی روشنی الصِّيَاءُ۔مُذْعِنِينَ ( النور : ٥٠) يُقَالُ اور وہ چمک ہے۔مُذْعِنِينَ عجز و انکساری سے جھکے لِلْمُسْتَخْذِي مُذْعِنٌ اَشْتَاتًا (النور: ٦٢) رہنے والوں کو کہتے ہیں۔اس کا مفرد مُذْعِنٌ وَشَتَّى وَشَتَاتٌ وَشَةٌ وَاحِدٌ وَقَالَ ہے۔اَشْتَاتًا، شَتَّى، شَتَاتٌ اور شَت کے معنی ابْنُ عَبَّاسِ سُورَةُ اَنْزَلْنَهَا (النور : ۲) ایک ہی ہیں یعنی الگ الگ۔اور حضرت ابن عباس بَيَّنَّاهَا۔وَقَالَ غَيْرُهُ سُمِّيَ الْقُرْآنُ نے فرمایا: سُورۃ اَنزَلنھا یعنی یہ ایک سورۃ ہے جو لِجَمَاعَةِ السُّوَرِ وَسُمِّيَتِ السُّورَةُ ہم نے کھول کر بیان کی ہے۔اور حضرت ابن لِأَنَّهَا مَقْطُوعَةٌ مِنَ الْأُخْرَى فَلَمَّا عباس کے سوا اوروں نے کہا: قرآن کا نام قرآن قُرِنَ بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ سُمِّيَ قُرْآنًا۔اس لئے ہے کہ وہ سورتوں کو اپنے اندر اکٹھار کھتا وَقَالَ سَعْدُ بْنُ عِيَاضٍ الشُّمَالِيُّ ہے اور سورۃ اس لئے نام رکھا گیا ہے کہ وہ دوسری سے الگ کی گئی ہے۔جب اُن سورتوں کو الْمِشْكَاةُ الْكُوَّةُ بِلِسَانِ الْحَبَشَةِ ایک دوسرے سے اکٹھا کر دیا گیا تو اُن کا نام وَقَوْلُهُ تَعَالَى إِنَّ عَلَيْنَا جَمُعَةَ وَ قرآن رکھا گیا۔اور سعد بن عیاض شمالی نے قرانه (القيامة : ۱۸) تَأْلِيفُ بَعْضِهِ کہا: مشکاۃ حبشی زبان میں طاقچے کو کہتے ہیں اور إِلَى بَعْضٍ فَإِذَا قَرَانَهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ اللہ تعالی کا فرمانا: إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَ قُرْآنَ اس (القيامة : ١٩) فَإِذَا جَمَعْنَاهُ وَأَلَّفْنَاهُ سے مراد اس کے ایک حصے کو دوسرے حصے سے فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ أَيْ مَا جُمِعَ فِيهِ فَاعْمَلْ پیوستہ کرنا ہے۔فَإِذَا قَرَانَهُ فَاتَّبِعُ قُرْآنَه : جب بِمَا أَمَرَكَ وَانْتَهِ عَمَّا نَهَاكَ وَيُقَالُ ہم اس کو اکٹھا کر دیں اور اس کو ترتیب دے دیں لَيْسَ لِشِعْرِهِ قُرْآنٌ أَي تَأْلِيفٌ وَسُمِّيَ تو پھر اس مجموعہ کی پیروی کر۔یعنی وہ باتیں بجالاء الْفُرْقَانَ لِأَنَّهُ يُفَرِّقُ بَيْنَ الْحَقِّ وَالْبَاطِلِ اس نے جن کے کرنے کا تجھے حکم دیا ہے اور ان وَيُقَالُ لِلْمَرْأَةِ مَا قَرَأَتْ بِسَلًا قَطُّ أَيْ باتوں سے رُک جاجن سے اس نے تجھے روکا ہے۔لَمْ تَجْمَعْ فِي بَطْنِهَا وَلَدًا۔وَقَالَ (عربی میں) کہتے ہیں: لَيْسَ لِشِعْرِهِ قُرْآنٌ یعنی