صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 65
صحيح البخاری جلد YA ۲۵ - كتاب التفسير / المؤمنون تُسْحَرُونَ : سحر سے ہے۔بِيَدِهِ مَلَكُوتُ كُلِّ شَيْءٍ وَهُوَ يُجِيرُ وَلَا يُجَارُ عَلَيْهِ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ سَيَقُولُونَ لِلَّهِ قُلْ فَأَنَّى تُسْحَرُونَ (المومنون: ۹۰،۸۹) یعنی کہو کس کے قبضہ قدرت میں ہر چیز کی بادشاہت ہے۔اور وہ سب کو پناہ دیتا ہے اور اس کے خلاف کوئی دوسرا پناہ نہیں دے سکتا، اگر تمہیں علم ہو۔وہ عنقریب کہیں گے اللہ ہی کا سب کچھ ہے۔کہو تو پھر تمہیں کیسے نظر نہیں آتا۔امام بخاری نے مذکورہ بالا آیات کے حوالے سے سورۃ المومنون کے نفس موضوع کی طرف قارئین کی توجہ منعطف کی ہے جس کا تعلق محاسبہ الہی سے ہے جو اس دنیا میں قائم ہوتا ہے اور حیاۃ ما بعد الموت سے متعلق یعنی اخروی زندگی کے بارے میں ہے۔اس دنیاوی سلسلہ محاسبہ سے پتہ چلتا ہے کہ اَحْسَنُ الْخَلِقِينَ نے انسان مطلق العنان اور عبث پیدا نہیں کیا کہ اس کی زندگی کا صرف یہ مدعا ہو کہ کھائے پیے اور حدود کو توڑے اور بے باکی سے ظلم کا ارتکاب کرتا رہے اور کوئی اس سے گرفت نہ ہو۔اس مفہوم اور معنوں سے اَحْسَنُ الْخَلِقِينَ کے حسن خلق پر بڑا دھبہ آتا ہے۔تمہیں جادو کیا جاتا ہے۔بوجہ جادو آنکھوں سے نظر نہیں آتا۔فرماتا ہے : قل من A✰✰