صحیح بخاری (جلد یازدہم)

Page 64 of 260

صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 64

صحيح البخاری جلد -۲۵ کتاب التفسير / المؤمنون معنی ہیں کشید کیا۔مابعد کی آیات میں نطفے میں جو تبدیلیاں ہوتی ہیں اُن کا ذکر کیا گیا ہے۔آیت ثُمَّ انْشَأْنَهُ خَلْقًا أخَرَ فَتَبْرَكَ اللهُ اَحْسَنُ الْخَلِقِينَ (المومنون: ۱۵) میں اس کی نوعی پیدائش کے حسن اور کمال کا ذکر ہے۔الْجِنَّةُ کے معنی ہیں جنون۔فرماتا ہے: اِنْ هُوَ إِلا رَجُلٌ بِهِ جِئَةٌ فَتَرَبَّصُوا بِهِ حَتَّى حِينِ (المومنون: ۲۶) یعنی یہ ایک ایسا شخص ہے جسے جنون ہے۔سو اس کے متعلق کچھ دیر انتظار کرو۔(تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ آیا یہ پاگل ہے یا عقلمند) ابو عبیدہ نے جنکہ کے معنی جنون کئے ہیں۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۵۶۶) الغشاء کے معنی ہیں جھاگ اور جو میل کچیل سطح آب پر نمودار ہو اور کسی کام کی نہ ہو۔فرماتا ہے: فَأَخَذَتْهُم الصَّيْحَةُ بِالْحَقِّ فَجَعَلْتُهُمْ غُشَاءَ فَبُعْد الْقَومِ الظَّلِمِينَ ) (المومنون: (۴۲) یعنی پس ان کو ایک سخت عذاب نے اچانک پکڑ لیا جس کی پختہ خبر دی گئی تھی اور ہم نے انہیں کوڑا کرکٹ بنادیا۔سو ظالم قوم کو اسی طرح نیست و نابود کر دیا جاتا ہے۔معمر نے قادہ سے غناء کے معنی بوسیدہ کئے ہیں۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۵۶۷) یعنی نبی کی تکذیب کی گئی کہ موت کے بعد زندگی کا کوئی سلسلہ نہیں یہ سب افترا ہے۔اس نے دعا کی: رَبِّ انْصُرْنِي بِمَا كَذَّبُونِ (المومنون: ۲۷) یعنی اے میرے رب ! میری مدد فرما کیونکہ انہوں نے مجھے جھوٹا قرار دیا ہے۔اس کی دعاسنی گئی اور وہ بد عملی کی پاداش میں نیست و نابود کر دیئے گئے کہ وہ کار آمد وجود نہ تھے۔بلکہ محاسبہ الہی سے لا پرواہ اور نڈر ہو کر ہر قسم کی معصیت و ظلم کا ارتکاب کرتے تھے جس کی وجہ سے اُن کا دنیا سے دور کیا جانا ہی ضروری تھا۔تھ انْشَأْنَا مِنْ بَعْدِهِمْ قُرُونَا أَخَرِينَ) (المومنون : ۴۳) یعنی پھر ہم نے اُن کے بعد کئی اور قومیں پیدا کیں۔اس سیاق کلام سے سورۃ مومنون کا موضوع متعین ہوتا ہے۔يجرون کے معنی ہیں فریاد کرنے لگے۔جیسے گائے فریاد کرتی ہے۔لفظ جوار گائے کی درد ناک آواز کو کہتے ہیں۔(عمدۃ القاری، شرح کتاب الزکوۃ، باب زکوۃ البقر، جزء ۹، صفحه ۲۶) لفظ جُوار سے یہ آیت مراد ہے: حَتَّی اِذَا أَخَذْنَا مُترَ فِيهِمْ بِالْعَذَابِ إِذَا هُمْ يَجْرُونَO لَا تَجْرُوا الْيَوْمَ " إِنَّكُم مِّنَّا لَا تُنْصُرُونَ (المؤمنون: ۶۵ ۶۶) یعنی یہاں تک کہ جب ہم نے ان میں سے آسودہ حال لوگوں کو ( بد عملی کی وجہ سے) سزا میں گرفتار کیا تو اچانک وہ فریاد کرنے لگے۔آج فریاد نہ کرو۔ہماری طرف سے تمہاری کوئی مدد نہ کی جائے گی۔عَلَى أَعْقَابِكُمْ کے معنی ہیں الٹے پاؤں پھر گئے۔فرماتا ہے : قد كَانَتْ ايْتِي تُتْلَى عَلَيْكُمْ فَكُنْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ تَنْكِصُونَ ) مُسْتَكْبِرِينَ بِه سيرًا تَهْجُرُونَ ) (المومنون: ۶۸،۷۷) یعنی میری آیتیں یقینا تم کو پڑھ کر سنائی جاتی تھیں لیکن تم لا پرواہی سے بے ہودہ باتیں کرتے ہوئے اپنی ایڑیوں کے بل پھر جایا کرتے تھے۔سیرا سَمَرَ سے ہے اور یہاں جمع کے معنوں میں آیا ہے۔شیرا کی جمع سَامِرُونَ اور سُمَّارٌ دونوں طرح ہوتی ہے۔تهجرون کے معنی بکو اس کرتے ہوئے۔۔ل ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : پھر ہم نے اسے ایک نئی خلقت کی صورت میں پروان چڑھایا پس ایک وہی اللہ برکت والا ثابت ہوا جو سب تخلیق کرنے والوں سے بہتر ہے۔