صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 64
صحیح البخاری جلد ۶۴ ۶۵ - کتاب التفسير / المؤمنون معنی ہیں کشید کیا۔ مابعد کی آیات میں نطفے میں جو تبدیلیاں ہوتی ہیں اُن کا ذکر کیا گیا ہے ۔ آیت ثُمَّ انْشَأْنَهُ خَلْقًا أَخَرَ فَتَبْرَكَ اللهُ أَحْسَنُ الْخَلِقِينَ (المومنون: (۱۵) (۱۵) میں اس کی نوعی پیدائش کے حسن اور کمال کا ذکر ہے۔ الْجِنَّةُ کے معنی ہیں جنون ۔ فرماتا ہے : إِنْ هُوَ إِلَّا رَجُلٌ بِهِ جِنَّةٌ فَتَرَبَّصُوا وا بِهِ بِهِ ۔ حَتَّى حِينِ (المومنون: ۲۶) یعنی یہ ایک ایسا شخص ۔ ، ایسا شخص ہے جسے جنون ہے۔ سو اس کے متعلق کچھ دیر انتظار کرو۔ (تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ آیا یہ پاگل ہے یا ابوعد یا عقلمند) ابو عبیدہ نے جنہ کے معنی جنون کئے ہیں۔ ) جنون کئے ہیں۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۵۶۶) الغناء کے معنی ہیں جھاگ اور جو میل کچیل سطح آب پر نمودار ہو اور کسی کام کی نہ ہو۔ فرماتا ہے: فَأَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ بِالْحَقِّ فَجَعَلْنَهُمْ غُثَاءَ فَبُعِدَّ لِلْقَوْمِ الظَّلِمِينَ ) (المومنون: (۴۲) یعنی پس ان کو ایک سخت عذاب نے اچانک پکڑ لیا جس کی پختہ خبر دی گئی تھی اور ہم نے انہیں کوڑا کرکٹ بنا دیا۔ سو ظالم قوم کو اسی طرح نیست و نابود کر دیا جاتا ہے۔ معمر نے قتادہ سے متاء کے معنی بوسیدہ کئے ہیں۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۵۶۷) یعنی نبی کی تکذیب کی گئی کہ موت کے بعد زندگی کا کوئی سلسلہ نہیں یہ سب افترا ہے۔ اس نے دعا کی: رَبِّ انْصُرْنِي بِمَا كَذَّبُونِ (المومنون: ۲۷) یعنی اے میرے رب ! میری مدد فرما کیونکہ انہوں نے مجھے جھوٹا قرار دیا ہے۔ اس کی دعا سنی گئی اور وہ بد عملی کی پاداش میں نیست و نابود کر دیئے گئے کہ وہ کار آمد وجود نہ تھے۔ بلکہ محاسبہ الہی سے لا پرواہ اور نڈر ہو کر ہر قسم کی معصیت و ظلم کا ارتکا ، و ظلم کا ارتکاب کرتے تھے جس کی وجہ سے اُن کا دنیا سے دور کیا جانا ہی ضروری تھا۔ ثم انْشَأْنَا مِنْ بَعْدِهِمْ قُرُونَا آخَرِينَ (المومنون : ۴۳) یعنی پھر ہم نے اُن کے بعد کئی اور قو میں پیدا کیں۔ اس سیاق کلام سے سورۃ مومنون کا موضوع متعین ہوتا ہے۔ يَجْتَرُونَ کے معنی ہیں فریاد کرنے لگے۔ جیسے گائے فریاد کرتی ہے۔ لفظ بجوار گائے کی درد ناک آواز کو کہتے ہیں۔ (عمدۃ القاری، شرح کتاب الزکوة، باب زکوۃ البقر، جزء ۹، صفحہ ۲۶) لفظ جُوار سے یہ آیت مراد ہے : حَتَّی إِذا أَخَذْنَا مُتْرَفِيهِمْ بِالْعَذَابِ إِذَا هُمْ يَجْتَرُونَ لَا تَجْرُوا الْيَوْمَ إِنَّكُمْ مِنَّا لَا تُنْصَرُونَ (المؤمنون: ۶۶،۶۵) یعنی یہاں تک کہ جب ہم نے اُن میں سے آسودہ حال لوگوں کو ( بد عملی کی وجہ سے) سزا میں گرفتار کیا تو اچانک وہ فریاد کرنے لگے۔ آج فریاد نہ کرو۔ ہماری طرف سے تمہاری کوئی مدد نہ کی جائے گی۔ عَلَى أَعْقَابِكُمْ کے معنی ہیں اُلٹے پاؤں پھر گئے۔ فرماتا ہے: قَدْ كَانَتْ أَيْتِي تُتْلَى عَلَيْكُمْ فَكُنْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ تَنْكِصُونَ تَنْكِصُونَ ) مُسْتَكْبِرِينَ بِهِ سَمِرًا تَهْجُرُونَ (المومنون ۶۸) (۶۷، یعنی میری آیتیں یقینا تم کو پڑھ کر سنائی جاتی تھیں لیکن تم لا پرواہی سے بے ہودہ باتیں کرتے ہوئے اپنی ایڑیوں کے بل پھر جایا کرتے تھے۔ سہرا سَمَر سے ہے اور یہاں جمع کے معنوں میں آیا ہے۔ سیرا کی جمع سَامِرُوْنَ اور سُمَّارٌ دونوں طرح ہوتی ہے۔ تَهْجُرُونَ کے معنی بکواس کرتے ہوئے۔ ا ترجمه حضرت خليفة المسيح الرابع ؟ پھر ہم نے اسے ایک نئی خلقت کی صورت میں پروان چڑھایا لیس ایک وہی اللہ برکت والا ثابت ہوا جو سب تخلیق کرنے والوں سے بہتر ہے۔