صحیح بخاری (جلد یازدہم)

Page 63 of 260

صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 63

صحیح البخاری جلد ۶۳ ۶۵ - کتاب التفسير / المؤمنون اُنہوں نے کہا: ہم ایک دن یا ایک دن کا کچھ حصہ ہی رہے ہیں تو شمار کرنے والوں سے پوچھ ۔ مابعد کی آیت سے ظاہر ہے کہ دنیا کی زندگی کی مدت کی قلت اور بے ثباتی کے مفہوم میں آیات کا سیاق ہے۔ لنكبون کے معنی ہیں کنارہ کش، راستے سے ایک طرف ہونے والے ہیں۔ فرماتا ہے : وَ إِنَّ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ عَنِ الصِّرَاطِ لَتَكِبُونَ (المومنون : ۷۵) یعنی اور وہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے، سیدھے راستے سے یقیناً ادھر اُدھر ہونے والے ہیں۔ یعنی محاسبہ پر یقین ہونے کی وجہ سے انسان کے اندر خشیت پیدا ہوتی ہے اور صراط مستقیم پر اپنے آپ کو قائم رکھتا ہے۔ طبری نے آیت کا یہ مفہوم بسند علی بن ابی طلحہ ، حضرت ابن عباس سے ہی نقل کیا ہے۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۵۶۶) کلِحُونَ کے معنی ہیں تیوری چڑھائے ہوئے۔ فرماتا ہے : وَ مَنْ خَفَتْ مَوَازِينُهُ فَأُولَئِكَ الَّذِينَ خَسِرُوا اور أَنْفُسَهُمْ فِي جَهَنَّمَ خَلِدُونَ تَلْفَحُ وُجُوهَهُمُ النَّارُ وَهُمْ فِيهَا كَلِحُونَ ) (المومنون: ۱۰۵،۱۰۴) یعنی بوقت محاسبہ ) جن کے وزن کم ہوئے اُن لوگوں نے اپنی جانوں کو گھاٹے میں ڈال دیا، ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ آگ ان کے مونہوں کو جھلسے گی اور وہ اس میں روسیاہ ہوں گے ، منہ بسورے ہوئے۔ کلِحُونَ کے معنی مذکورہ بالا سند سے حضرت ابن عباس سے ہی مروی ہیں۔ لیکن بسند ابی الاحوص حضرت ابن مسعودؓ سے گلوح کے معنی کُلُوحُ الرَّأْسِ النَّضِيحُ وَكَشَرَ عَنْ ثَغْرِهِ کئے گئے ہیں۔ یعنی پراگندہ سر ، دانت نکلے ہوئے، ہونٹ ڈھلکے ہوئے۔ اور حاکم نے حضرت ابو سعید خدری سے مرفوعاً تَشْوِيهِ النَّارُ فَتَقْلُصُ شَفَتُهُ الْعُلْيَا وَتَسْتَرْخِي السُّفْلَى نقل کئے ہیں ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۵۶۶) یعنی آگ سے منہ جھلسے ہوئے ہوں گے۔ اوپر کے ہونٹ سکڑے ہوئے نیچے کے ہونٹ ڈھلکے ہوئے اور دانت باہر نکلے ہوئے۔ آیت کا ترجمہ دونوں مفہوموں کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ وَقَالَ غَيْرُهُ مِنْ سُللَةٍ : غَيْرُهُ سے مراد حضرت ابن عباس کے ماسوا ابو عبیدہ ہیں، جنہوں نے وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ سُللہ میں سال سے نطفہ اور نسل مراد لی ہے اور اس شعر کا حوالہ دیا ہے۔ وَهَلْ هِنْدُ إِلَّا مُهْرَةٌ عَرَبِيَّةٌ سُلَالَةُ أَفْرَاسٍ تَحَلَّلَهَا بَغْلُ یعنی ہند خاتون خاتون نہیں ہے مگر ایک عربی بچھیری جو عمدہ گھوڑیوں کی نسل ہے۔ یعنی اس کی پیدائش عمدہ نسل کی ہے، پھر اس کا ملاپ خچر سے ہوا ہے۔ عبدالرزاق نے بواسطہ بواس معمر قتادہ سے اس آیت کا یہ مفہوم نقل کیا کیا ہے ہے۔ کہ آدم مٹی کے خلاصہ در خلاصہ سے اور نطفہ کی کئی صورتوں میں منتقل ہونے کے بعد موجودہ انسانی شکل میں پیدا ہوئے۔ پوری آیت یہ ہے: وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ سُلَلَةٍ مِّنْ طِينٍ ثُمَّ جَعَلْنَهُ نُطْفَةً فِي قَرَارٍ مَّكِيْنٍ (المومنون: ۱۳، ۱۴) لفظ سللہ کا اطلاق نطفہ پر اور ان قوتوں اور قابلیتوں پر ہوتا ہے جو اس میں مرکوز ہیں اور جن کا ظہور مختلف حالتوں میں یکے بعد دیگرے نمایاں سے نمایاں تر ہوتا جاتا ہے۔ یہ لفظ سل سے مشتق ہے جس کے ا ترجمه حضرت خليفة المـ يفة المسيح الرابع : اور یقیناً ہم نے ا نے انسان کو گیلی مٹی کے خلاصے سے پیدا کر پیدا کیا۔ پھر ہم نے اسے نطفہ کے طور پر ایک ٹھہرنے کی محفوظ جگہ میں رکھا۔