صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 62
صحيح البخاری جلد ۶۳ ۶۵ - کتاب التفسير / المؤمنون تشریح : سبع طرائق : : سات آسمانوں یا بلندیوں کا ذکر اس آیت میں ہے: وَ لَقَدْ خَلَقْنَا فَوقَكُمْ سَبْعَ طَرَائِقَ وَمَا كُنَّا عَنِ الْخَلْقِ غُفِلِينَ (المومنون : (۱۸) یعنی اور ہم نے تمہارے اوپر سات راستے بنائے ہیں اور ہم اپنی مخلوق سے غافل نہیں رہے۔ طرائق کی یہ تفسیر سفیان بن عیینہ کی ہے جو سعید بن عبد الرحمن مخزومی نے اُن سے نقل کی ہے۔ اُن کے علاوہ طبری نے بھی بواسطہ ابن زید بن اسلم یہی معنی نقل کئے ہیں۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۵۶۵) لَهَا سَبِقُونَ : یعنی سعادت اُن کے کے لئے پہلے سے مقدر ہو چکی ہے۔ فرماتا ہے: أُولَئِكَ يُسْرِعُونَ فِي الْخَيْرُتِ دوسرے دوس وَهُمْ لَهَا سَبِقُونَ سبِقُونَ (المومنون : (۶۲) یعنی یہی لوگ نیکیوں میں جلدی کرتے ہیں اور وہ اُن کی طرف ایک دو سے آگے بڑھنے والے ہیں۔ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جن کا ذکر اس سے ماقبل آیات میں کیا گیا ہے۔ آیت کا مذکورہ بالا مفہوم علی بن ابی طلحہ نے حضرت ابن عباس سے موصولاً نقل کیا ہے۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۵۶۵) یعنی جن نیکیوں میں وہ سبقت لے جاتے ہیں وہ اُن کے لئے سعادت کا موجب ہوتی ہیں۔ قُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ کے معنی ہیں خوف زدہ فرماتا ہے : وَالَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا أَتَوا وَ قُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ أَنَّهُمْ إِلَى رَبِّهِمْ رَجِعُونَ (المومنون: ۶۱) اور وہ جو اللہ نے انہیں عطا کیا ہے دوسروں کو دیتے ہیں اور اُن کی حالت یہ ہوتی ہے کہ دل خوفزدہ ہیں اس بات سے کہ وہ اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ وَجَل کا یہ مفہوم بھی مذکورہ بالاسند سے حضرت ابن عباس ہی سے مروی ہے۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۵۶۵) هَيْهَاتَ هَيْهَاتَ کے معنی ہیں بہت دور کی بات ہے۔ یہ بھی اسی سند سے انہی کی شرح ہے۔ فرماتا ہے: اَیعِدُكُم انَّكُمْ إِذَا مِتُّمْ وَكُنْتُمْ تُرَابًا وَ عِظَامًا اَنَكُمْ مُخْرَجُونَ ) هي هَيْهَاتَ هَيْهَاتَ لِما تُوعَدُونَ (المومنون: ۳۶، ۳۷) یعنی کیا وہ تم سے وعدہ کرتا ہے کہ جب تم مر جاؤ گے اور مٹی اور ہڈیاں ہو جاؤ گے ، تو تم پھر نکالے جاؤ گے۔ جس بات کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے۔ (وہ عقل سے ) بہت ہی دور کی بات ہے، نا ممکن ہے۔ اِنْ هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا نَمُوتُ وَ و نحيا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُونِينَ (المومنون: (۳۸) یعنی صرف اسی دنیا کی ہماری زندگی ہے۔ مرتے ہیں اور زندہ ہوتے ہیں اور ہمیں دوبارہ ہرگز نہیں اُٹھایا جائے گا۔ ان تینوں آیات سے نیز سورۃ المومنون کی ابتدائی آیات سے اس سورۃ کا موضوع متعین ہوتا ہے۔ یعنی بعث ما بعد الموت اور سلسلہ مجازات۔ فَسُلِ الْعَادِین کے معنی ہیں شمار کرنے والوں سے پوچھ یعنی ملائکہ سے۔ اس بارے میں وہم ہے کہ حضرت ابن عباس سے یہ مروی ہے۔ ابو ذر اور نسفی (کاتب صحیح بخاری) کی روایت کے مطابق یہ مجاہد کا قول ہے۔ عبد الرزاق نے بواسطہ معمر قتادہ سے العادِین کے معنی حساب کرنے والے بتائے ہیں۔ (فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۵۲۶) آیات کے سیاق سے بھی اس کا مفہوم متعین ہوتا ہے۔ فرماتا ہے : قُلَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِي الْأَرْضِ عَدَدَ سِنِينَ قَالُوا لَبِثْنَا يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ فَسْئَلِ الْعَادِينَ (المومنون: ۱۱۳، ۱۱۴) (یعنی اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم زمین میں کتنے سال رہے ہو۔