صحیح بخاری (جلد یازدہم)

Page 61 of 260

صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 61

صحیح البخاری جلد ५। ۶۵ - کتاب التفسير / المؤمنون ۲۳ - سورة المُؤْمِنُونَ قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ سَبْعَ طَرَائِقَ (سفیان بن عیینہ نے کہا: سبع طرائق سے مراد (المؤمنون: ۱۸) سَبْعُ سَمَوَاتٍ ۔ لَهَا سات بلندیاں ہیں۔ لَهَا سَبِقُونَ سے یہ مراد ہے سيقون (المؤمنون: (٦٢) سَبَقَتْ لَهُمْ کہ اُن کے لئے سعادت پہلے سے مقدر ہو چکی السَّعَادَةُ قُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ (المؤمنون: ٦١) (المؤمنون: (٦١) ہے۔ قُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ کے معنی ہیں اُن کے دل ڈر خَائِفِينَ۔ وَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ هَيْهَاتَ رہے ہیں۔ اور حضرت ابن عباس نے کہا: هَيْهَاتَ هيهات (المؤمنون: ۳۷) بَعِيدٌ بَعِيدٌ۔ هَيْهَاتَ کے معنی ہیں: بہت دور بہت دور ۔ فَسُلِ فَسْئَلِ الْعَادِينَ (المؤمنون: ١١٤) الْمَلَائِكَةَ الْعَادِينَ کے معنی ہیں شمار کرنے والوں سے پوچھو لتكبُونَ (المؤمنون : ٥ ون: ٧٥) لَعَادِلُونَ ۔ یعنی فرشتوں ں ہے۔ لنکبُونَ کے معنی ہیں (سیدھی كلِحُونَ (المؤمنون: ١٠٥) عَابِسُونَ۔ وَقَالَ راہ چھوڑ کر) ایک طرف ہو جانے والے۔ کلِحُونَ کے معنی ہیں تیوری چڑھائے ہوئے، منہ بسورے غَيْرُهُ مِنْ سُللَةٍ (المؤمنون: ۱۳) الْوَلَدُ۔ وَالنُّطْفَةُ السُّلَالَةُ۔ وَالْجِنَّةُ وَالْجُنُونُ ہوئے۔ اور حضرت ابن عباس کے سوا اوروں نے کہا: من سللہ سے مراد بچہ اور نطفہ ہے۔ اور وَاحِدٌ وَالْغُثَاءُ الزَّبَدُ وَمَا ارْتَفَعَ عَنِ الْجِنَّة الْمَاءِ وَمَا لَا يُنْتَفَعُ بِهِ يَجْتَرُونَ اور الْجُنون ایک ہی ہیں۔ اور الْغُتَاءُ کے معنی ہیں جھاگ اور جو کوڑا کرکٹ اُٹھ کر پانی کے سے (المؤمنون: ٦٥) يَرْفَعُونَ أَصْوَاتَهُمْ اوپر آجائے اور اور کسی کام نہ آئے۔ يَجْرُور كَمَا تَجْأَرُ الْبَقَرَةُ۔ عَلَى أَعْقَابِكُمُ مراد ہے ایسی آواز بلند کریں گے جیسے گائے (المؤمنون: ٦٧) رَجَعَ عَلَى عَقِبَيْهِ۔ سيرا تکلیف کے وقت نکالتی ہے یعنی پکاریں گے۔ علی (المؤمنون: ٦٨) مِنَ السَّمَرِ وَالْجَمْعُ اعْقَابِكُمْ کے معنی ہیں اپنی ایڑیوں کے بل لوٹ السُّمَّارُ وَالسَّامِرُ هَا هُنَا فِي مَوْضِعِ گيا۔ سُمِرًا سَمَر سے ہے اور اس کی جمع سُمَّارُ الْجَمْعِ۔ تُسْحَرُونَ (المؤمنون: ٩٠) تَعْمَوْنَ ہے۔ آیت میں وہ جگہ مراد ہے جہاں رات کو مِنَ السِّحْرِ۔ باتیں کرتے ہیں۔ تُسْحَرُونَ کے معنی اکٹھے ہو کر باتیں ہیں تم جادو سے اندھے ہو رہے ہو۔