صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 61
صحيح البخاری جلد ۶۱ ۲۳ سُورةُ المُؤمِنُون ۲۵ - كتاب التفسير / المؤمنون قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ سَبْعَ طَرَابِقَ (سفیان بن عیینہ نے کہا: سبع طراق سے مراد (المؤمنون: ۱۸) سَبْعُ سَمَوَاتٍ لَها سات بلندیاں ہیں۔کھا سبقون سے یہ مراد ہے سيقون (المؤمنون: ٦٢) سَبَقَتْ لَهُمْ کہ اُن کے لئے سعادت پہلے سے مقدر ہوچکی السَّعَادَةُ قُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ (المؤمنون: ٦١) ہے۔قُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ کے معنی ہیں اُن کے دل ڈر خَائِفِينَ۔وَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسِ هَيْهَاتَ رہے ہیں۔اور حضرت ابن عباس نے کہا: هيهات هيهات (المؤمنون: ۳۷) بَعِيدٌ بَعِيدٌ هَيْهَاتَ کے معنی ہیں : بہت دُور بہت دُور۔فَسُلِ فَسُلِ الْعَادِينَ (المؤمنون: ١١٤) الْمَلَائِكَةَ الْعَاذِینَ کے معنی ہیں شمار کرنے والوں سے پوچھو لتكبُونَ (المؤمنون: ٧٥) لَعَادِلُونَ یعنی فرشتوں سے۔کنکبوں کے معنی ہیں (سیدھی كلِحُونَ (المؤمنون: ١٠٥) عَابِسُونَ۔وَقَالَ راہ چھوڑ کر) ایک طرف ہو جانے والے۔کلِحُونَ کے معنی ہیں تیوری چڑھائے ہوئے ، منہ بسورے غَيْرُهُ مِنْ سُلْلَةِ (المؤمنون: ١٣) الْوَلَدُ۔ہوئے۔اور حضرت ابن عباس کے سوا اوروں وَالنُّطْفَةُ السُّلَالَةُ۔وَالْجِنَّةُ وَالْجُنُونُ وَاحِدٌ۔وَالْغُثَاءُ الزَّبَدُ وَمَا ارْتَفَعَ عَنِ۔نے کہا: مِن سُللہ سے مراد بچہ اور نطفہ ہے۔اور الْجِنَّة اور الْجُنُون ایک ہی ہیں۔اور الْغُتَاءُ کے الْمَاءِ وَمَا لَا يُنْتَفَعُ بِهِ يَجْرُونَ معنی ہیں جھاگ اور جو کوڑا کرکٹ اُٹھ کر پانی کے (المؤمنون: ٦٥) يَرْفَعُونَ أَصْوَاتَهُمْ اوپر آجائے اور کسی کام نہ آئے۔يَجْرُونَ سے كَمَا تَجْأَرُ الْبَقَرَةُ۔عَلَى أَعْقَابِكُمُ مراد ہے ایسی آواز بلند کریں گے جیسے گائے (المؤمنون: ٦٧) رَجَعَ عَلَى عَقِبَيْهِ۔سيرا تکلیف کے وقت نکالتی ہے یعنی پکاریں گے۔علی (المؤمنون:٦٨) مِنَ السَّمَرِ وَالْجَمْعُ أَعْقَابِكُمُ کے معنی ہیں اپنی ایڑیوں کے بل لوٹ السُّمَّارُ وَالسَّامِرُ هَا هُنَا فِي مَوْضِعِ گیا۔سُرًا سَمَر سے ہے اور اس کی جمع سُمَّارُ الْجَمْعِ۔تُسْحَرُونَ (المؤمنون: ٩٠) تَعْمَوْنَ ہے۔آیت میں وہ جگہ مراد ہے جہاں رات کو اکٹھے ہو کر باتیں کرتے ہیں۔تُسحَرُونَ کے معنی مِنَ السِّحْرِ۔ہیں تم جادو سے اندھے ہو رہے ہو۔