صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 60
صحيح البخاری جلد ۶۵ - کتاب التفسير / الحج چمڑے محفوظ رہ سکتے ہیں اور نہ انتڑیاں۔جو فضاء بالا سے انسانوں اور دیگر جانداروں اور عمارتوں پر بربادی افگن، ہلاکت خیز آگ برساتی ہے وہ محتاج بیان نہیں۔اسی کو عَذَابَ الْحَرِيقِ سے تعبیر کیا گیا ہے اور ہم جو گرائے جاتے ہیں وہ مقامِعُ مِنْ حَدِيدٍ (الحج : ۲۲) کی صحیح تعبیر ہیں۔اس عذاب الہی سے متعلق آیات پہلے مبالغہ آمیز بھی جاتی ہوں تو کوئی تعجب کی بات نہیں لیکن آج زمانے نے حرف بحرف ان کی شرح بیان کر دی ہے اور اس زمانے کے نذیر نے قبل از وقت اس عذاب کی نسبت تمام دنیا کو ان الفاظ میں آگاہ کر دیا تھا۔مذکورہ بالا عذاب الہی جسے زلزلة الساعة کہا گیا ہے جہاں اس کی شدت بیان کی گئی ہے وہاں اس بیان سے ظاہر ہے کہ یہ مصیبت کی گھڑی اسی دنیا کی زندگی میں اور سطح زمین پر قائم ہونے والی ہے۔جیسا کہ بعض علماء کے حوالے سے ذکر کیا جا چکا ہے کہ الفاظ تَذْهَل حان مُرْضِعَةٍ عَمَّا أَرْضَعَتْ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا (الحج: (٣) واضح طور پر بتاتے ہیں کہ قیامت کبری سے اس کا تعلق نہیں کیونکہ وہاں حاملہ عورتوں اور دودھ پلانے والیوں کا تعلق نہیں۔اس عذاب الہی کی میعاد تک معین کی گئی ہے۔فرماتا ہے: وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ وَلَنْ يُخْلِفَ اللهُ وَعْدَهُ ۖ وَإِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَالْفِ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ ، وَكَانَ مِنْ قَرْيَةٍ أَهْلَيْتُ لَهَا وَهِيَ ظَالِمَةٌ ثُمَّ أَخَذْتُهَا وَإِلَى الْمَصِيرُ (الحج: ۴۹،۴۸) یعنی اور یہ لوگ عذاب سے متعلق جلدی کا مطالبہ کرتے ہیں اور اللہ اپنے وعدے کے خلاف ہرگز نہیں کرے گا اور ایک دن تیرے رب کے نزدیک تمہاری گنتی کے ایک ہزار سال کے برابر ہے اور کتنی ہی بستیاں ہیں جنہیں میں نے مہلت دی بحالیکہ وہ ظالم تھیں، پھر میں نے انہیں پکڑ لیا اور میری طرف رجوع ہوا۔یہ ایک ہزار سالہ میعاد والی گھڑی تین ہجری صدیوں کے بعد شروع ہوتی ہے جنہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خیر القرون قرار دیا ہے اور ہماری چودھویں صدی میں اس کا ظہور مقدر ہے۔کتاب احوال الآخرۃ مسلمانوں میں بہت شہرت رکھتی ہے وہ پڑھ کر دیکھ لی جائے کہ چودھویں صدی کی کیا کیا علامات اس میں بیان ہوئی ہیں۔مذکورہ بالا آیات سے سورۃ الحج کا موضوع متعین ہوتا ہے۔آیات کے سمجھنے میں سیاق کلام کو مد نظر رکھنا ضروری ہے۔اس تعلق میں قارئین کی توجہ دو باتوں کی طرف منعطف کی جاتی ہے۔اول : اپنی تفسیر میں لفظی قراءت کا معنی، اختلاف کی اصلاح مد نظر ہے جو بحث بعض علماء میں ہوئی ہے۔دوم: ابواب قائم کر کے ایسی آیات کو شرح کے لئے چنا ہے جن سے سورۃ کا سیاق متعین ہوتا ہے۔مثلاً سورۃ المج کا یہی باب دیکھئے جس میں وترى الناس شکری کی آیت نمایاں کی ہے اور عذاب الہی سے متعلق آیات کے حوالے دیئے گئے ہیں۔اس سورۃ کا موضوع کفر و الحاد اور دہریت کا ابطال اور عالمگیر مواخذہ الہی کا بیان ہے۔جسے زلزلة الساعة کے نام سے موسوم کیا ہے اور اس عذاب کے اسباب اور اس کی کیفیت اور مدت کے بارے میں نشاندہی کی گئی ہے۔اس سیاق کو مد نظر رکھ کر یہ سورۃ پڑھی جائے۔ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : ہر دودھ پلانے والی اسے بھول جائے گی جسے وہ دودھ پلاتی تھی اور ہر حاملہ اپنا حمل گرا دے گی۔