صحیح بخاری (جلد یازدہم)

Page 59 of 260

صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 59

صحيح البخاری جلد ۵۹ ۶۵- کتاب التفسیر / الحج بَارَزُوا يَوْمَ بَدْرٍ عَلِيٌّ وَحَمْزَةُ وَعُبَيْدَةُ آيت هذنِ خَصْمِنِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمُ انبي وَشَيْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ وَعُتْبَةُ بْنُ رَبيعَةَ لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی۔اُنہوں نے کہا: یہ وہی لوگ ہیں جو جنگ بدر کے دن مقابلے کے وَالْوَلِيدُ بْنُ عُتْبَةَ۔أطرافه : ٣٩٦٥، ٣٩٦٧۔مریخ لئے میدان میں نکلے تھے۔(ایک طرف) حضرت علیؓ اور حضرت حمزہ اور حضرت عبیدہ (دوسری طرف) شیبہ بن ربیعہ، عتبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ۔هذنِ خَصْمِنِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمُ : دونوں روایتوں میں جس آیت کا حوالہ دیا گیا ہے وو وہ یہ ہے : هُذَنِ خَصْمِنِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ فَالَّذِينَ كَفَرُوا قُطِعَتْ لَهُمْ ثِيَابٌ مِّنْ نَارٍ يُصَبُّ مِنْ فَوقِ رُءُوسِهِمُ الْحَمِيمُ يُطْهَرُ بِهِ مَا فِي بُطُونِهِمْ وَالْجُلُودُ وَ لَهُمْ مَقَامِعُ مِنْ حَدِيدِهِ كُلَّمَا ارادُوْا أَنْ يَخْرُجُوا مِنْهَا مِنْ غَمْ أَعِيدُوا فِيهَا وَذُوقُوا عَذَابَ الْحَرِيقِ (الحج: ۲۰ تا ۲۳) یعنی یہ دو مخالف فریق ہیں جنہوں نے اپنے رب کے بارے میں جھگڑا کیا اور جو منکر ہیں اُن کے لئے آگ کے کپڑے بنائے جائیں گے اور اُن کے سروں پر کھولتا ہوا پانی انڈیلا جائے گا جس کے ذریعہ سے اُن کے پیٹوں کی انتڑیاں اور اُن کے چمڑے پگھلائے جائیں گے اور اُن کے لئے لوہے کے ہتھوڑے ہیں (جن سے انہیں مارا جائے گا)۔جب کبھی وہ غم کے مارے اس عذاب سے نکلنا چاہیں گے اس میں لوٹائے جائیں گے اور ( اُن سے کہا جائے گا) یہ عذاب حریق ( جلانے والا ) چکھو۔سورۃ الج کی یہ آیات سیاق کلام کی وضاحت و تعیین کرنے میں بہت اہمیت رکھتی ہیں اور ان کی تطبیق سے پتہ لگ جاتا ہے کہ کس زمانے سے تعلق رکھتی ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دو متخاصم فریق ہیں۔انبیاء علیہم السلام کا گروہ اور اُن کے مد مقابل شیطانی گروہ۔اِن دونوں کی جنگ کا آغاز حضرت آدم علیہ السلام کے زمانے سے ہے اور ان دونوں کے قضیے کا آخر فیصلہ ہونا مقدر ہے۔ہر زمانے میں ان آیات کی تطبیق اپنے اپنے ماحول کے مطابق ہوتی رہی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوات میں بھی اور جوں جوں زمانہ گزرتا چلا گیا ہے، مقابلے کی صورت شدت اختیار کرتی گئی ہے۔یہاں تک کہ آج اس دجالی زمانے میں اس نے انتہائی صورت اختیار کر لی ہے اور عذاب الہی مذکورہ بالا آیات کے بیان کے مطابق اپنی پوری تفصیل کے ساتھ نمایاں ہو گیا ہے۔موجودہ آتش بار جنگوں نے واقعی جہنم کی صورت اختیار کرلی ہے۔تابکاری کے مہلک آلات و وسائل کی شدت نا قابل بیان ہے۔جس سے نہ جسم کے